آئین میں چئیرمین سینیٹ کو ہٹانے کیلیے تحریک کا تصور نہیں،صادق سنجرانی ،سینیٹ اجلاس 23 جولائی کو طلب

255

اسلام آباد (نمائندہ جسارت) چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ایوان بالا کا اجلاس 23 جولائی کو طلب کرلیا‘ اپوزیشن کی جانب سے اجلاس کے لیے جمع کروائی گئی ریکوزیشن کے بعد چیئرمین سینیٹ نے اجلاس (منگل) 23 جولائی کو سہ پہر3 بجے طلب کیا ہے، اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن میں سینیٹ اجلاس کا کوئی ایجنڈا نہیں بتایا گیا۔ اس سے قبل چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اجلاس کے بارے میں اپوزیشن کے ساتھ پارلیمانی رہنمائوں کو ان کے خط کا جواب دے دیا‘ صادق سنجرانی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی بالا دستی کے لیے لڑ رہے ہیں عدم اعتماد کی قرارداد کا آئین اور ضابطہ کار کے تحت سامنا کرنے کو تیار ہیں۔ صادق سنجرانی نے پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف)، نیشنل پارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنمائوں مشاہد اﷲ خان، شیری رحمن، مولانا عبدالغفور حیدری، میر حاصل بزنجو، عثمان خان کاکڑ، ستارہ ایاز اور دیگر اپوزیشن لیڈرز کو خط کا جواب ارسال کر دیا۔ اپنے خط میں صادق سنجرانی نے کہا کہ آئین اور ضابطوں کے تحت سینیٹ اجلاس کی کارروائی ہو گی‘ اس سارے عمل کے دوران اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ چیئرمین کی رولنگ کمزور نہ ہو‘ میری ذات کا مسئلہ نہیں ہے ‘میں ملک اور بیرون ملک سینیٹ آف پاکستان کے عزت و وقار کے لیے کھڑا ہوں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ پارلیمنٹ کی بالا دستی کی جنگ لڑ رہے ہیں ‘چیئرمین کی رولنگ کی جنگ کر رہا ہوں‘ عدم اعتماد کی قرارداد کا سامنا کرنے کو تیار ہوں‘ آئینی اور ضابطوں کے مطابق طریقہ کار ہی اختیار کیا جا سکتا ہے‘ بطور نگراں چیئرمین سینیٹ کی رولنگ کا تحفظ میری ذمے داری ہے۔ ان کا یہ خط3 صفحات پر مشتمل ہے۔