ظالمانہ بجٹ اور ٹیکسوں کیخلاف تاجروں کا مارکیٹوں میں اذانیں دینے کا اعلان

58

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر) آل پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کے مرکزی صدر محبوب اعظم نے آئی ایم ایف کے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے ملک کے لیے تباہ کن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک معاشی طور پر منجمد ہو گیا ہے، ڈاکومینٹیشن کے نام پر ملکی معیشت کا بیڑا غرق کر دیا ہے اور تاجروں سے مذاکرات سے گریز کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہال میں اسمال ٹریڈرز کے عہدیداران کے اجلاس
سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے عالمی سود خور ادارے آئی ایم ایف کے ظالمانہ بجٹ اور حکومتی ہٹ دھرمی پر 22 جولائی سے بازاروں اور مارکیٹوں میں اذانیں دینے کا اعلان کیا۔ محبوب اعظم نے کہا کہ 7300 ارب روپے کے عائد ٹیکسوں اور انوائس پر شناختی کارڈ نمبر کی شرط کے باعث پورے ملک میں کاروبار رُک گیا ہے، بڑے کارخانے مال فروخت نہ ہونے سے بند ہو گئے ہیں، اندیشہ ہے کہ صورتحال برقرار رہی تو مل مالکان ڈائون سائزنگ کرنے پر مجبور ہوں گے اور بے روزگاری کا سیلاب آ جائے گا۔ اجلاس میں محمود حامد، جاوید حاجی عبد اللہ، بابر بنگش، سلیم ملک، نعمان قریشی، عثمان شریف، جاوید اختر، محمد ربان، اقبال یوسف اور دیگر نے خطاب کیا۔ اسمال ٹریڈرز کراچی کے صدر محمود حامد نے کہا کہ حکومت تاجروں کو ٹیکس چور کہتی ہے لیکن سیاست دان قومی دولت لوٹنے کا الزام ایک دوسرے پر لگاتے ہیں، تاجر ٹیکس دیتا رہا ہے اور مزید دینے کے لیے تیار ہے مگر نئے بجٹ قوانین میں رشوت ستانی کے راستے کھولے جا رہے ہیں، عوام پر 733 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگا کر تاجروں کو اس کا وصول کنندہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی، گیس، پیٹرول اور CNGکی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کا خون نچوڑا جا رہا ہے، آئی ایم ایف کے قرضوں کا سود ادا کرنے کے لیے عوام کا خون نچوڑا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ہفتے میں تاجر اپنی احتجاجی تحریک کے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے،24 جولائی کو کراچی میں تاجروں کا اہم نمائندہ اجلاس منعقد کر کے تحریک کے اگلے مرحلے کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف ایسٹ انڈیا کمپنی بن گیا ہے جس کی آزادی کے لیے منظم جدو جہد کرنا ہو گی۔