سانحہ ماڈل ٹائون :انسداد دہشت گردی عدالت میں جواد حامد کا بیان

64

لاہور (آن لائن) سانحہ ماڈل ٹائون استغاثہ کیس کے سلسلے میں مدعی جواد حامد نے انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں جج اقبال چدھڑ کی عدالت میں اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے کہا کہ 17 جون 2014 ء کے دن ماڈل ٹائون میں ایس پی سی آئی اے عمر ورک نے ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی رہائش گاہ کے قریب کھڑے ہوئے کارکنان پر ایس ایم جی سے فائرنگ کی جس سے خاور نوید شدید زخمی ہو گئے اور دوران علاج 19 جون 2014 ء کو جاں بحق ہو گئے اس دوران ڈی ایس پی خالد ابوبکر، ڈی ایس پی کاشف
خلیل ،ڈی ایس پی سی آئی اے میاں شفقت علی، انسپکٹر سی آئی اے بشیر نیاز، انسپکٹر سی آئی اے کینٹ شاہ نواز کی فائرنگ سے محمدعمر اور متعدد کارکنان زخمی ہوئے ، انسپکٹر شاہ نواز کی فائرنگ سے عبدالقیوم زخمی ہوئے، ڈی ایس پی عمران کرامت کی فائرنگ سے رضوان خان زخمی ہو گئے اور 19 جون 2014 ء کو جاں بحق ہو گئے ،ڈی ایس پی عمران کرامت کے گن مین امجد حسین نے گولی چلائی جوہارون محمود کی بائیں ٹانگ میں لگی، ایک فائر محمد شکیل وحید کو پائوں کے ٹخنے پر لگا۔ ایس پی سلمان علی خان کے حکم پر عبدالرئوف سب انسپکٹر نے شہباز علی پر فائرنگ کی اور زخمیوں تاب نہ لاتے ہوئے24 جون کو جاں بحق ہوگئے۔ پولیس افسران کی فائرنگ کے دوران ایس پی سلیمان بآواز بلند حکم دیتے رہے کہ ادارہ منہاج القرآن کو ٹیک اوور کر لیں اور پھر پولیس منہاج القرآن کے مرکزی گیٹ پر ٹوٹ پڑی ، ایس پی سکیورٹی سلمان علی کے حکم پر کوٹھی نمبر303 ایم بلاک کی چھت سے مورچہ بند QRF کے سب انسپکٹر حسن علی نے فائر کیا جو ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی رہائش گاہ کی چھت پر موجود منیر حسین کی ٹھوڑی پر لگا اور ایس پی سیکورٹی سلمان کے حکم پر پولیس ڈاکٹرطاہرالقادری کی رہائش گاہ پر گولیاں برساتی رہی،عدالت میں نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ، انوار اختر ایڈووکیٹ، سردار غضنفر حسین ایڈووکیٹ موجود تھے۔مزید سماعت آئندہ جمعہ کو ہو گی۔