سندھ :نئے تعمیرہونے والے اسپتالوں کو پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کا فیصلہ

88

کراچی(اسٹا ف رپورٹر)پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ (پی پی پی)نے اپنے 29 ویں پالیسی بورڈ کے اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ حال ہی میں نئے تعمیر ہونے والے اسپتالوں،جیکب آباد انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(جے آئی ایم ایس)اور ماتلی تعلقہ اسپتال کو پرائیویٹ پارٹنرشپ کے طور پر چلایا جائے گا تاکہ یہ 24 گھنٹے بہتر خدمات فراہم کر سکے۔اجلاس ہفتے کو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدت منعقد ہوا۔اجلاس میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو، وزیر بلدیات سعید غنی، وزیر تعلیم و ثقافت سید
سردار شاہ، چیف سیکرٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ، چیئرپرسن پی اینڈ ڈی ناہید شاہ، وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکرٹری ساجد جمال ابڑو، این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سروش لودھی، صوبائی سیکرٹریز قاضی شاہد پرویز، نجم شاہ، سعیدا عوان، احسن منگی،اسلم انصاری،پی پی پی یونٹ کے ایم ڈی خالد شاہ،ایم ڈی واٹر بورڈ عبداللہ خان اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جے آئی ایم ایس امریکا کے تعاون سے تعمیر کیا گیا اور اس کا رقبہ5ایکڑ ہے اور اس پر 14.5 بلین ڈالرز لاگت آئی ہے،133 بستروں پر مشتمل ہے اور اس کے مجموعی عملے کی تعداد 141 ہے جس میں صرف 14 سرکاری ملازمین ہیں، اس وقت اس کے کچھ محکمے فعال ہیں،2018ء کے دوران492566او پی ڈی کی گئیں،زچگی کے 4130 کیسز اور خاندانی منصوبہ بندی کے 2061 کیسز ریکارڈ کیے گئے،جیکب آباد میں قائم یہ اسپتال سندھ اور بلوچستان کے عوام کے لیے بڑی سہولت ہے۔ اجلاس میں30بستروں پر مشتمل ماتلی تعلقہ اسپتال جوکہ1975ء میں قائم ہوا اور اسے1978ء میں اپ گریڈ کیا گیا یہ800تا1000مریضوں کو او پی ڈی کی خدمات فراہم کر رہا ہے اور اس کے20تا25بستر روزانہ کی بنیاد پر استعمال ہوتے ہیں، اسپتال میں ٹی بی اور ڈینٹل کلینک اور خاندانی منصوبہ بندی کے یونٹ سمیت تمام سامان سے آراستہ لیبر روم بھی ہے جہاں پر اوسطاً100تا125زچگی کے کیسز ماہوار ہوتے ہیں، اسپتال میںایکسرے،الٹرا سائونڈ مشین اور ایمبولینس سروس بھی ہے۔محکمہ صحت نے پی پی پی یونٹ کے ذریعے بورڈ سے تعلقہ اسپتال کو آئوٹ سورس کرنے کی درخواست کی تاکہ اسکی انتظامیہ اور اسٹاف کی دیگر ضروریات اور رہائشی کالونی اور دیگر ضروریات سے نبرآزما ہو سکے۔ بورڈ نے درخواست کی منظوری دیدی۔ اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ملیر ایکسپریس وے پروجیکٹ کے لیے ملیر ندی سے ریتی اٹھانے کی اجازت مانگی گئی ہے،اگر ریتی ملیر ندی سے اٹھائی جائے تو پروجیکٹ کی لاگت میں کمی ہوگی۔ واضح رہے کہ ملیر ندی سے ریتی اٹھانے پرعدالت عظمیٰ نے واٹر بورڈ کی درخواست پر پابندی لگا ئی ہوئی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ماحولیاتی مطالعہ کرکے رپورٹ عدالت عظمیٰ میں جمع کرائی جائے،اگر ریتی اٹھانے سے ماحول کو کوئی نقصان نہیں تو عدالت عظمیٰ سے درخواست کی جائے کہ وہ ریتی اٹھانے کے اس پروجیکٹ کے لیے اجازت دے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر عدالت اجازت نہیں دیتی تو منصوبے کی لاگت کو بڑھایا جائے گا۔