ایران نے آئل ٹینکر ضبط کرلیا (سنگین نتائج کی برطانوی دھمکی)

86
تہران: برطانوی آئل ٹینکر خلیج فارس میں سفر کررہا ہے‘ ایرانی جنگی جہاز اسٹینا امپیرو کو ضبط کرنے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے
تہران: برطانوی آئل ٹینکر خلیج فارس میں سفر کررہا ہے‘ ایرانی جنگی جہاز اسٹینا امپیرو کو ضبط کرنے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران نے بین الا قوامی قوانین کی خلاف ورزی الزام لگاتے ہوئے برطانیہ کا ایک تیل بردار جہاز اسٹینا امپیرو پکڑ کر اس کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کے کوسٹ گارڈز نے ہفتے کے روز بتایا کہ انہوں نے جمعہ کی شب ایک برطانوی جہاز بین الاقوامی بحری قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر تحویل میں لیا ہے۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ جہاز آبنائے ہرمز میں مچھیروں کی ایک کشتی سے ٹکرایا تھا۔ایرانی نیوز ایجنسی فارس کے مطابق جہاز کو کشتی سے ٹکرانے کے بعد اسے رکنے کا کہا گیا، لیکن اس نے وارننگ نہ سنی، جس کے بعد ایرانی گارڈز نے اس پکڑ لیا۔ اس جہاز کو بندر عباس کی بندر گاہ پہنچایا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس ٹینکر اور عملے کے ارکان کو مکمل تحقیقات تک نہیں چھوڑا جائے گا۔ آئل ٹینکر میں سوار عملے کے 23 افراد میں سے 18 کا تعلق بھارت، 3 کا روس، ایک کا فلپائن اور ایک کا لٹویا سے ہے۔ بھارت اور فلپائن نے اپنے شہریوں کی رہائی کے لیے سفارتی کوششوں کی تصدیق کی ہے۔ دوسری جانب برطانیہ نے کہا ہے کہ ایران نے برطانیہ کے 2 جہاز پکڑے ہیں۔ تاہم ایران نے برطانیہ کا یہ دعویٰ مسترد کر دیا ہے۔ البتہ ایک برطانوی شپنگ کمپنی نوربلک نے بتایا ہے کہ ایران کی جانب سے جمعہ کی شب یرغمال بنائے اس کے تیل بردار جہاز مسدار کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس جہاز کو ایرانی پاسداران انقلاب کے مسلح اہل کاروں نے جمعہ کی شب آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے روک لیا تھا۔کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جہاز کے کپتان سے رابطہ بحال ہوگیا ہے۔ جہاز کو یرغمال بنانے والے مسلح اہل کار چلے گئے ہیں۔ تمام عملہ بہ حفاظت ہے اور جہاز اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگیا ہے۔ ادھر برطانوی وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ نے اپنے آئل ٹینکر پر قبضے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے اس ٹینکر کو نہ چھوڑا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک پریشان کن پیش رفت ہے، اور ایران شاید غیرقانونی اور عدم استحکام کا باعث بننے والا خطرناک رویہ اختیار کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ لندن حکومت اپنے جہاز کا تحفظ یقینی بنائے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اس تناظر میں فوجی راستہ اختیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ جیریمی ہنٹ نے بتایا کہ برطانوی آئل ٹینکر کو4 جہازوں اور ایک ہیلی کاپٹر نے گھیرے میں لیا، جس کے بعد انہیں ایرانی بحری حدود میں لے جایا گیا۔برطانوی حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم معاملات کو فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں، لیکن واضح کرتے ہیں کہ اس مسئلے کو لازمی طور پر حل ہونا ہے۔ جرمنی اور فرانس نے بھی برطانوی آئل ٹینکر کو تحویل میں لینے کے عمل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایران کی جانب سے برطانوی جہاز کے تحویل میں لینے کے بعد برطانیہ نے اپنے جہازوں کو کچھ عرصے تک آبنائے ہرمز کا راستہ استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔ جب کہ ایران اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے تازہ پیش رفت پر ٹیلی فون پر بات کی ہے۔