حاجی احمد ملاح نے قران پاک کا سندھی میں پہلا منظوم ترجمہ کیا

906

بدین (نمائندہ جسارت) قران پاک کا سندھی میں پہلا منظوم ترجمہ کرنے والے نامور شاعر اور ممتاز عالم دین مولانا حاجی احمد ملاح کی پچاسویں برسی کے موقع پر بدین پریس کلب میں تقریب کا انعقاد، علمی، ادبی، مذہبی، سیاسی، سماجی شخصیات اور شہریوں کی شرکت۔ معروف عالم دین اور شاعر مولانا حاجی احمد ملاح کی پچاسویں برسی کے موقع پر یادگار فورم کی جانب سے بدین پریس کلب میں منعقد برسی کی تقریب میں سندھ کے نامور مزاحمتی شاعر حافظ نظامانی، ماہر تعلیم مصنف اور شاعر محمد صدیق مرہم، مولانا حاجی احمد ملاح کی شاعری اور زندگی پر تحقیق اور پی ایچ ڈی کرنے والے ماہر تعلیم پروفیسر ضرار رستمانی اور پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن کے علاوہ پروفیسر عبداللہ ملاح، پروفیسر طفیل چانڈیو، بدین پریس کلب کے صدر تنویراحمد آرائیں، سینئر صحافیوں عبدالمجید ملاح، مصطفی جمالی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولوی حاجی احمد ملاح اپنے وقت کے بہت بڑے مزاحمتی شاعر، کھرے، سچے اور بہادر انسان تھے۔ انہوں نے وقت کے ظالم حکمرانوں، ظالم وڈیرہ شاہی، شرک باز مذہبی ٹھیکیداروں کو بہادی اور جرأت سے للکارا، ان کیخلاف شاعری کے علاوہ عملی طور پر جہاد کیا۔ معاشرے کے ہر ناسور کیخلاف جنگ کی۔ اپنی شاعری میں دینی تبلیغ کے ساتھ معاشرے میں ہونے والے ہر ظلم جبر کیخلاف حقوق سے محروم عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے آواز بلند کی۔ مقررین نے کہا کہ مولوی حاجی احمد ملاح نے قران پاک کا پہلا منظوم ترجمہ کر کے ایک عظیم کارنامہ سرانجام دیا، جس کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
بدین (نمائندہ جسارت) جی ڈی اے کے پارلیمانی لیڈر حسنین مرزا نے کہا ہے کہ پانی کی قلت اور پانی چوری کیخلاف بدین کے عوام اب سخت عوامی ردعمل پر مجبور ہیں، اب شہر شہر، نگر نگر احتجاج، مظاہرے، دھرنے، ہڑتال اور پہیہ جام ہوگا۔ رکن صوبائی اسمبلی بیرسٹر حسنین مرزا نے مورجھر فارم ہاؤس پر پانی کی قلت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور ضلع بھر میں عام اور پہیہ جام ہڑتال کی تیاریوں کے سلسلے میں منعقد مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع بھر کے آبادگار رہنماؤں، مقامی بلدیاتی نمائندوں، سیاسی و سماجی رہنماؤں کی اجلاس میں بھرپور شرکت سندھ حکومت کو پیغام اور وارنگ دے رہی ہے کہ تین روز میں ضلع بھر کی تمام نہروں کو ان کے گیج اور گنجائش کے مطابق ٹیل تک پانی فراہم نہ کیا گیا تو ضلع بھر میں پانی چوروں اور ان کے سرپرستوں کیخلاف شدید عوامی ردعمل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک سازش کے تحت پانی کی قلت اور چوری کی گئی، بااثر حکومتی شخصیات کی ہزاروں ایکڑ زمین آباد جبکہ ٹیل اور ساحلی علاقوں کی لاکھوں ایکڑ زمین ویران اور زرعی معیشت تباہ کر کے رکھ دی اور عوام سے پینے کا پانی بھی چھین لیا، جس کے باعث عوام پانی کی تلاش میں نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔