سندھ میں کارکنان کی جبری گمشدگی کا سلسلہ جاری ہے، فتح چنا

42

حیدر آباد (اسٹاف رپورٹر) سندھ سے جبری گرفتار کرکے لاپتا کیے گئے کارکنان عاقب چانڈیو، ڈاکٹر فتح محمد کھوسو، ستار ہکڑو، شادی خان کھوسو اور شبیر کلہوڑو سمیت دیگر نوجوانوں کی بازیابی کے لیے وائس آف مسنگ پرسن سندھ کی جانب سے حیدر آباد پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ قائم کیا گیا، جس کی قیادت وائس آف مسنگ پرسن کے رہنمائوں فتح چنا، شازیہ چانڈیو، تاج جویو، ڈاکٹر بختاور جان اور عالیہ بخشل تھلو اور دیگر کررہے تھے۔ اس موقع پر رہنمائوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی عرصے سے سندھ میں بلا جواز کارکنان کو جبری اٹھا کر لاپتا کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور اس سلسلے میں ہم نے عدالتوں سمیت پولیس تھانوں میں اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے درخواستیں بھی دی ہیں اور کیس بھی درج کرائے گئے ہیں لیکن اب تک پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے ہمارے لاپتا کیے گئے نوجوانوں کو بازیاب نہیں کرا سکے ہیں جس کی وجہ سے لاپتا کیے گئے نوجوانوں کے ورثا اپنے پیاروں کی گمشدگی کے حوالے سے سخت ذہنی اذیت سے دوچار ہیں اور مسلسل احتجاج کرنے پر مجبور ہیں لیکن ہمارے احتجاج کا کوئی نوٹس نہیں لیا جارہا ہے۔ انہوں نے حکام بالا سے مطالبہ کیا کہ ہمارے لاپتا کیے گئے نوجوانوں کو فوری بازیاب کرا کر انصاف اور قانون کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ دوسری صورت میں سندھ بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔