عدلیہ اور پولیس کی آزادی!

100

چیف جسٹس آف پاکستان محترم آصف سعید کھوسہ نے جمعہ کو کراچی میں پولیس میں اصلاحات کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتوں کی طرح پولیس کی آزادی بھی ضروری ہے۔ چیف جسٹس صاحب کا پورا خطاب انگریزی میں تھا۔ عدلیہ اور پولیس کی آزادی سے کسی کو بھی اختلاف نہیں ہوسکتا لیکن ہر قسم کی آزادی کی حدود متعین ہیں۔ عدلیہ کتنی آزاد ہے، اس کے بارے میں چیف جسٹس صاحب سے زیادہ کسے معلوم ہوگا۔ حالیہ واقعہ ایک جج ارشد ملک کا سب کے سامنے ہے مگر اس سے پہلے بھی عدلیہ کی آزادی کی تاریخ پاکستان میں کبھی قابل تحسین نہیں رہی۔ عدلیہ کی بے توقیری کے آغاز کا سہرا جسٹس منیر کے سر جاتا ہے جس نے قانون اور آئین کی خلاف ورزی کی۔ جسٹس قیوم کی گفتگو ریکارڈ پر ہے جو سیف الرحمن کو یقین دلا رہے تھے کہ بے نظیر کو زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے گی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے میں جسٹس مولوی مشتاق اور اس کے بعد چیف جسٹس کا مشکوک کردار سامنے آیا۔ اس پر طرہ یہ کہ جسٹس نسیم حسن شاہ نے بھی بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دے ڈالا۔ چنانچہ پیپلز پارٹی آج تک بھٹو کو عدالتی شہید قرار دیتی ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ بھٹو کے جرائم کتنے طویل تھے اور یہ کہ احمد رضا قصوری پر حملہ اور اس کے نتیجے میں ان کے والد کے قتل کے ذمے دار پکڑے کیوں نہیں گئے۔ یہ ذمے داری بہرحال حکمران وقت کی تھی اور پھر بار بار عدلیہ کے کارنامے سامنے آتے رہے۔ جنرل پرویز مشرف کو وردی میں حکمرانی کا استحقاق عدلیہ ہی نے دیا تھا۔ کیا اسے عدلیہ کی آزادی کہا جائے یا کچھ اور۔ ایسی ہی آزادی پولیس کے لیے درکار ہے۔ چند دن پہلے ہی ایک محترم جج نے پولیس کو لتاڑا ہے کہ کیا عوام تمہارے زر خرید ہیں کہ جب چاہے کسی کو اٹھا لو۔ کیا یہ پولیس کی آزادی کا ثبوت نہیں کہ مزید آزادی درکار ہے۔ پولیس اور اس کی متعدد شاخیں آئے دن جعلی مقابلے کرتی رہتی ہیں۔ سانحہ ساہیوال کا مقدمہ اب تک فیصل نہیں ہوا جس میں پولیس کے اہلکاروں نے نہایت بے دردی سے قتل عام کیا، مقتولوں میں ایک 13سال کی بچی بھی شامل تھی۔ سانحہ ماڈل ٹائون کسی کے اشارے پر بھی ہوا لیکن نہتے لوگوں پر گولیاں تو پولیس ہی نے چلائیں۔ اب اور کتنی آزادی درکار ہے۔ تازہ ترین خبر یہ ہے کہ پنجاب پولیس کے 37افسروں اور اہلکاروں کے خلاف ڈیڑھ سال میں زنا، اجتماعی زنا اور منشیات فروشی کے 32مقدمات درج ہوئے۔ ان میں لاہور سر فہرست ہے۔ یہ تو وہ مقدمات ہیں جو درج ہوگئے ورنہ اس سے کہیں زیادہ جرائم پر پردہ ہی پڑا رہا کہ بیشتر لوگ پولیس کے خلاف شکایت درج نہیں کراتے اور درج کرانے جائیں توپیٹی بند بھائی توجہ ہی نہیں دیتے۔ پولیس کی مجرمانہ سرگرمیاں صرف پنجاب تک محدود نہیں، ہر جگہ یہی صورت حال ہے اور شاید سندھ سب سے آگے ہو۔ پنجاب انفارمیشن کمیشن کے حکم پر جاری پولیس رپورٹ میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ 37افسروں اور اہلکاروں میں سے متعدد کے خلاف چالان ہی مکمل نہیں ہوا۔ وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ ادارے قانون کی بالا دستی یقینی بنائیں، حکومت مداخلت نہیں کرے گی۔ اور قانون کی بالا دستی یہ ہے کہ ایس ای سی پی جس گھر میں چاہے کھڑکیاں دروازے توڑ کر اندر گھس جائے، انسداد منشیات فورس ( اے این ایف) جس کو چاہے راستے سے اٹھا کر منشیات برآمد کرلے۔ حکمران کہتے ہیں کہ اے این ایف بڑا معتبر اور باوثوق ادارہ ہے کیوں کہ ایک حاضر سروس جرنیل اس کی سربراہی کررہاہے۔ یقینا ایسا ہی ہوگا لیکن جمعہ کے اخبار میں ایک خبر ہے کہ ’’ عدالت عظمیٰ نے صوبہ بلوچستان میں مبینہ طور پر منشیات کی رقم سے کروڑوں روپے کی اراضی اور شہری جائدادیں بنانے سے متعلق اینٹی نارکوٹکس فورس ( اے این ایف ) کی جانب سے ملزمان کی جائداد یں بحق سرکار ضبط کرنے کے معاملے میں اے این ایف کی اپیل خارج کردی ہے اور ملزمان عدم ثبوت پر بری ہوگئے ‘‘۔ یہی نہیں بلکہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کیا یہ اتنا بڑا مقدمہ تھا جس پر عدالت عالیہ نے فیصلہ جاری کرنے میں 10سال لگا دیے؟ ریاست ملزمان پر عاید الزامات کا ثبوت پیش نہیں کرسکی کہ ملزمان نے اسمگلنگ کی رقم سے جائدادیں خریدیں اور محکمہ مال کے ریکارڈ سے ثابت ہے کہ یہ اراضی 1967ء سے مذکورہ ملزمان کے خاندان کے پاس ہے۔ 10سال تک مقدمہ لٹکانے پر تو چیف جسٹس عدالت عالیہ سے باز پرس کریں گے ہی کہ کیا یہ عدلیہ کی آزادی ہے؟ مگر معتبر ترین ادارے اے این ایف کا اعتبار کہاں گیا۔ کیا آج جو اے این ایف نے مقدمات درج کرائے ہیں ان کا فیصلہ بھی 10سال بعد ہوگا ؟ محترم چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں جھوٹے گواہوں کو متنبہ کرتے ہوئے ایک اہم فیصلے کا اعلان کیا ہے کہ کسی مقدمے کی سماعت صرف جج یا وکیل کے جاں بحق ہونے پر ملتوی ہوگی، اب مقدمات میں التواء نہیں دیا جائے گا۔ اس پر عمل شروع ہوگیا تو مقدمات کا فیصلہ ہونے میں کئی کئی برس نہیں لگیں گے۔ عدالت عظمیٰ نے قومی زبان کے فروغ کے لیے طے کیا تھا کہ فیصلے اردو میں لکھے جائیں۔ یہ بڑا مستحسن فیصلہ ہے لیکن کاش گزشتہ جمعہ کو چیف جسٹس صاحب خودبھی اردو میں خطاب کرتے تاکہ عام لوگ سمجھ پاتے۔