چھ ارب ڈالرجرمانے کی کیا اوقات ہے

151

شاعر نے کہا تھا
بری خبر ہے اسے مشتہر نہیں کرتے
کسی کے عیب کو یوں بے ہنر نہیں کرتے
نصیحت اپنی جگہ لیکن کیا کیا جائے پاکستان کے حوالے سے اچھی خبریں کم ہی دستیاب ہیں۔ پاکستان خانہ ٔ انوری بن کررہ گیا ہے۔ ہر بری خبر سوئے پاکستان رواں ہے۔ ایسے میں میڈیا بری خبریں مشتہر نہ کرے تو کیا کرے۔ ایک بڑی بُری خبر ریکوڈک کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔ عالمی بینک سے متعلق ایک ثالثی ادارے نے ریکوڈک مقدمے میں پاکستان پر پانچ ارب ستانوے کروڑ ڈالر کا جرمانہ عاید کردیا ہے۔ یہ اس ادارے کی تاریخ کا سب سے بڑا جرمانہ ہے۔ ریکوڈک چاغی کے پہاڑوں میں دبے ہوئے تانبے اور سونے کے ذخائر ہیں۔ 12ملین ٹن تانبے اور 21ملین اونس سونے کے ذخائر۔ سونے کے ذخائر کی مالیت 100ارب امریکی ڈالر سے زائد ہے۔ سونے اور تانبے کے علاوہ درجنوں دیگر معدنیات بھی اس علاقے میں پائی جاتی ہیں۔ ماہرین چاغی کو معدنیات کا شو کیس کہتے ہیں۔ یہاں شیل گیس کے ذخائر بھی پائے جاتے ہیں جو دنیا میں دوسرے بڑے ایسے ذخائر ہیں۔ شیل گیس کو پٹرول کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ امریکا شیل گیس نکالنے کے بعد سعودی عرب کا محتاج نہیں رہا۔ 1993 میں اس وقت کے وزیراعلیٰ ذوالفقار علی مگسی نے ریکوڈک کا ٹھیکہ آسٹریلوی کمپنی پی ایچ پی کو دیا تھا۔ معاہدہ صرف ڈرلنگ کے لیے ہوا تھا لیکن آسٹریلوی کمپنی نے حکومت بلوچستان کو اعتماد میں لیے بغیر مزید کام کرنے کے لیے اطالوی کمپنی ٹیتھیان سے معاہدہ کرلیا۔ آسٹریلوی کمپنی نے کوشش کی تھی کہ گوادر پورٹ کے ذریعے ریکوڈک کا سونا اور تانبا کینیڈا، اٹلی اور برازیل کو فروخت کرے جس سے بلوچستان کو کل آمدنی کا صرف پچیس فی صد ملنا تھا۔ بلوچستان حکومت نے پی ایچ پی کی طرف سے بے قاعدگی کے بعد معاہدہ منسوخ کردیا اور سترہ برس بعد 2010 میں یہ فیصلہ کیا کہ صوبائی حکومت اس معاہدے پر خود کام کرے گی۔ سماعت کے دوران بلوچستان کے اے جی نے عدالت کو بتایا تھا کہ ذخائر سے کمپنیوں کو چھ کروڑ ڈالر کا منافع ہوا ہے جب کہ صوبے کو ایک پائی وصول نہیں ہوئی۔ چیف جسٹس افتخار چودھری نے بلو چستان حکومت اور آسٹریلوی مائننگ کمپنی کے درمیان ریکوڈک معاہدے کو ملکی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا۔اس فیصلے کے بعد ٹی سی سی نے بین الاقوامی فورمز سے رجوع کیا۔ ٹی سی سی کی جانب سے 16ارب ڈالر ہر جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
ان تفصیلات میں پاکستانی موقف حق بجانب نظر آتا ہے پھر سوال یہ ہے کہ عالمی بینک نے ہمارے خلاف اس قدر سخت فیصلہ کیوں دیا۔ اس پر بات کرنے سے پہلے ملکی معاملات میں ہماری حکومتوں کے رویے ملاحظہ فرمالیں۔ ایک جاپانی مینو فیکچر سے ہندوستانی اور پاکستانی رویوں پر بات کی گئی تو اس نے کہا جب ہمارے پاس ہندوستان سے کوئی وزیر کسی سودے کے معاملے میں آتا ہے تو پہلے تو وہ متعلقہ پروڈکٹ کا اچھی طرح ٹھوک بجا کر معائنہ کرتا ہے جب وہ کوالٹی کے حوالے سے مطمئن ہوجاتا ہے پھر وہ قیمت کی بات کرتا ہے اور اتنی بحث کرتا ہے کہ ہم زچ ہوجاتے ہیں۔ جب تمام معاملات طے ہوجاتے ہیں پھر وہ پوچھتا ہے کہ آپ نے ہوٹل میں میرے آرام کے سلسلے میں کیا کیا ہے۔ ساتھ ہی ہلکی آواز میں وہ اپنے کمیشن کی بات بھی کرتا ہے۔ پاکستان سے جب کوئی وزیر آتا ہے تو پہلے وہ ہوٹل میں اپنے آرام اور کمیشن کی بات کرتا ہے۔ جب یہ معاملات طے ہوجاتے ہیں پھر وہ پروڈکٹ کی کوالٹی دیکھتا ہے اور نہ قیمت کے بارے میں زیادہ تردد کرتا ہے۔ لاپروائی سے معاہدے کرنے میں شاید ہی کوئی قوم ہماری مثل ہو۔ ریکوڈ ک کے معاملے میں کسی کمیشن یا کک بیک کی بات تو سامنے نہیں آئی لیکن اسی دوران یہ بات ضرور تواتر سے کہی گئی تھی کہ معاہدے میں بلوچستان کے عوام کے حقوق کا خیال نہیں رکھا گیا۔ عالمی عدالت میں حکومت پاکستان کی جانب سے یہ موقف بھی اختیار کیا گیا کہ ٹی سی سی نے بلوچستان ڈیولپمنٹ اٹھارٹی کے افسروں کو رشوت دے کر ابتدائی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مزید علاقے اپنی لیز میں شامل کرائے تھے۔ اس کوشش میں کمپنی کی کیا غلطی؟ یہ تو ہماری غلطی بلکہ ملک دشمنی پر مبنی اقدام تھا۔ ان افسروں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟ یقینا معاہدے میں ایسے قانونی سقم ہوں گے جن کی بنیاد پر کمپنی نے عالمی ادارے سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا اور ان قانونی نکات کی بنا پر عالمی ادارے نے ہمارے خلاف فیصلہ دیا۔ جب معاملہ ثالثی عدالت کے روبرو تھا اس وقت بھی ہماری لاپروائیاں دیدنی تھیں۔ اس مقدمے کے دوران وکلا کی ٹیم چار مرتبہ تبدیل کی گئی۔ باہر ممالک کے وکلا نے بھاری فیس تو وصول کی لیکن مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانے سے پہلے ہی مقدمے سے علیحدگی اختیارکرلی۔ عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کا آپشن موجود نہیں ہے۔
عمران خان حکومت نے ورلڈ بینک کی ثالثی عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد اس نقصان کے ذمے داران کے خلاف ایک تحقیقاتی کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو پاکستان کو آئی ایم ایف سے ملنے والی رقم کے تقریباً برابر جرمانہ عائد ہونے کی وجوہ اور ذمے داران کا تعین کرے گا۔ یہ فیصلہ عوام کو دھوکا دینے کے سوا کچھ نہیں۔ اس فیصلے کے بعد حکومت کے اٹارنی جنرل نے ٹی سی سی کمپنی کی جانب سے معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے بیان کو خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان بطور ذمے دار ریاست کے بین الاقوامی معاہدوں کو سنجیدگی سے دیکھتی ہے۔ پاکستان یقینا چھ ارب ڈالر جرمانہ ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ عدم ادائیگی کی صورت میں پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر مزید نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
عوامی زبان میں کہا جاتا ہے کہ کھا یا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا چار آنہ۔ ہماری صورتحال وہی ہے۔ جب کمپنی کھدائی کرکے ہمارا سونا اور تانبہ نکال رہی تھی جب بھی ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آیا اب جرمانے سے بچنے کے لیے ہم کمپنی سے از سر نو معاہدہ کریں گے تب بھی ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ پہلے بھی ہم اپنے اثاثے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو مفت کے مول دیتے رہے اب دوبارہ معاہدے کے بعد بھی دنیا کے پانچویں بڑے سونے کے ذخیرے کو عالمی سرمایہ کاروں کے سپرد کردیں گے۔ کمپنی اس ذخیرے سے حاصل ہونے والی دولت کا بہت بڑا حصہ لے جائے گی اور ہمارے حصے میں چند ٹکوں کے سوا کچھ نہیں آئے گا۔ ہم کل بھی غریب تھے آج بھی غریب ہی رہیں گے۔ سیندک سے چینی کمپنی برسوں سے تانبے کی کان کنی کررہی ہے لیکن اس دولت سے ہمیں اتنا حصہ بھی نہیں ملا کہ پورا پاکستان تو ایک طرف ان چند ہزار لوگوں کی قسمت ہی بدل جاتی جو سیندک کے مقام پر رہتے ہیں۔
سرمایہ دارانہ نظام آزادی ملکیت کے تصور کے تحت قدرتی وسائل کی نج کاری کا پرزور حامی ہے۔ جس کی وجہ سے دنیا کے بڑے بڑے خزانے چند نجی کمپنیوں اور عالمی سرمایہ داروں کے پاس چلے جاتے ہیں۔ ریاست اور عوام غریب ہی رہتے ہیں۔ اگر ان عالمی چوروں کا جرم پکڑا جائے۔ متعلقہ حکومت مزاحمت کرے، کوئی تنازع پیدا ہوجائے تو استعماری طاقتوں کی جانب سے بنائی گئی عدالتیں استعماری سرمایہ دار کمپنیوں کو مکمل تحفظ فراہم کرتی ہیں اور ایسے فیصلے صادر کرتی ہیں کہ آئندہ کسی حکومت کو ان سرمایہ دار کمپنیوں کے خلاف مزاحمت کرنے کی جرات ہی نہ ہو۔ یہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم عالمی معاہدوں میں حد درجہ محتاط بلکہ چوکس رہیں لیکن ہم محتاط اور چوکس رہیں ایسا ممکن نہیں۔ آدھا ملک گنوانے کے بعد بھی ہم سستی، بے پروائی، غفلت اور الکسی سے باز نہ آئے چھ ارب ڈالر جرمانے کی کیا اوقات ہے۔