ٹیکس درٹیکس کی وجہ سے شہرمیںگوشت کی قلت کاخدشہ

46

کراچی (اسٹا ف رپورٹر)کراچی میں گوشت کی قلت کا خدشہ بڑھ گیا۔ملیر بکرا پیڑی کے بیوپاریوں سے دو دو ٹیکس وصول کرنے کے باوجود عید اسپیشل ٹیکس کے نام پر ایک اور ٹیکس وصول کرنے کی تیاری کرلی گئی ہے جس کے خلاف بیوپاریوں نے غیر معینہ مدت تک ہڑتال کا فیصلہ کرلیا ۔ کراچی ڈسٹرکٹ کائونسل اور ڈی ایم سی ملیر الگ الگ فی جانور پر ٹیکس وصول کرنے کے باوجود عید اسپیشل ٹیکس کے نام پر 1200 سے 1500 روپے ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کو بیوپاریوں نے مسترد کرتے ہوئے احتجاج کا اعلان کردیا ہے۔اس سلسلے میں ملیر بکرا پڑی کے سابق صدر سید حسن علی رند، انور بلوچ غازی، سیٹھ لالا فضل اور دیگر نے کہا ہے کہ ٹیکس درٹیکس وصول کرنے کے باوجود بیوپاریوں کو کوئی سہولیات نہیں دی جارہی ہیں ، کراچی ڈسٹرکٹ کونسل غیرقانونی طور پر ٹیکس کے نام پر بیوپاریوں سے بھتا لے رہی ہے جب ان کی جوریڈکشن ہی نہیں ہے تو ٹیکس کس لیے وصول کیا جارہا ہے فی جانور جوکہ کٹو کہلاتے ہیں ان پر بھی قربانی کے جانور کا ٹیکس لگایا جارہا ہے کٹو بھینس پر بھی دودھ والی بھینس کا ٹیکس لیا جارہا ہے۔ڈی ایم سی ملیر الگ سے ٹیکس وصول کررہی ہے بارہا اعلیٰ حکام کو شکایات کر چکے ہیں پر کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے۔ سابق صدر سید حسن علی نے کہا کہ دو دو ٹیکس دینے کے باوجود بھی عید اسپیشل ٹیکس کے نام پر بیوپاریوں سے فی جانور ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ہم تمام بیوپاری ٹیکس نہیں دیںگے اگر ہم سے زبردستی ٹیکس وصول کیا گیا تو غیر معینہ مدت تک ہم ہڑتال کریں گے۔انہوںنے کہا کہ ملیر بکرا پڑی پورا سال چلتی ہے اور یہاں صرف وہ جانور لائے جاتے ہیں جو صرف کراچی کے گوشت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہوتے ہیں ان پر اسپیشل ٹیکس وصول کرنا غیرقانونی ہوگا۔جس کو ہم ہرگز قبول نہیں کریں گے۔تمام بیوپاریوں نے اعلیٰ حکام سے پرزور اپیل کی ہے عید کے دنوں میں ملیر بکرا پڑی کو لوڈشیڈنگ فری کیا جائے اور بیوپاریوں اور خریداروں کے تحفظ کے لیے سخت سیکورٹی کے انتظامات کیے جائیں اور پولیس کے خاص پکٹ قائم کی جائیں ۔