شرح سود میں اضافہ تباہی ثابت ہوگا، صدر حیدرآباد اسمال ٹریڈرز

88

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد فاروق شیخانی نے کہا ہے کہ شرح سود میں ایک فیصد اضافے سے کاروباری لاگت میں کئی گنا
اضافہ ہوجائے گا اور بینکوں کے قرضے مزید بڑھیں گے، جیسا کہ عندیہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ریگولرٹی ڈیوٹی میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے اِس سے تعمیرات میں استعمال ہونے والی مصنوعات جن میں اسٹیل اور دیگر اشیاء شامل ہیں بہت مہنگی ہوجائیں گی اور رئیل اسٹیٹ اور انڈسٹری کی صنعتیں جو پہلے ہی روبہ زوال ہیں مزید تباہی کی طرف جائیں گی جس سے نہ کاروباری طبقہ اور نہ ہی حکومت کو کچھ حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سطح پر مہنگائی کا طوفان کروٹیں لے رہا ہے، روپے کی قیمت انتہائی سطح تک گرچکی ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیا گیا ہے جس سے پہلے ہی کاروباری لاگت آسمان سے باتیں کررہی ہے اب شرح میں اضافہ میں اضافہ تباہی ثابت ہوگا اور تاجر برادری کا کاروبار ٹھپ ہوجائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ نگراں حکومت سے موجودہ حکومت تک روپے کی قیمت میں متعدد بار کمی نے پہلے ہی معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور ملکی مصنوعات جن کو برآمد کرنے سے زرمبادلہ کمایا جاسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی صنعت و تجارت کو بحران سے فوری نکالنے کی ضرورت ہے تاکہ کاروباری طبقہ اپنی کاروباری سرگرمیاں جاری رکھ سکے اور معیشت پربرے اثرات مرتب نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کو اِس سلسلے میں فوری ایسے اقدام کی ضرورت ہے کہ صنعت کا پہیہ رُکنے نہ پائے ورنہ نقصان کے علاوہ کوئی فائدہ مند صورتحال نہیں ہوگی۔
فاروق شیخانی