مرید عباس قتل کیس‘ ملزم کے ریمانڈ میں ایک دن کی توسیع

117

کراچی( نمائندہ جسارت) کراچی کی مقامی عدالت میں مرید عباس قتل کیس کی سماعت ہوئی۔سماعت کے موقع پر وکلااور تفتیشی افسر عدالت میں پیش ہوئے، تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم کا بل پینڈنگ ہے، اسپتال انتظامیہ نے کہا ہے کہ لے جائیں،جس پر ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ مجھے ملاقات کی اجازت دی جائے، بل ادا کردیں گے۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میںملزم کے وکیل سے کہا کہ 3 دن سے بول رہے ہیں وکالت نامہ جمع کرائیں،آپ کو ملنے کی اجازت تب تک نہیں دی جائے گی، جب تک
وکالت نامہ عدالت میں جمع نہیں کرائیں گے۔ تفتیشی افسر نے5 گواہان کی دفعہ 164 کے تحت بیانات قلم بند کرانے درخواست دی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔ عدالت نے گواہان کو طلب کرلیا گواہان میں ملزم کے آفس کا عملہ اور انویسٹرز شامل ہیں، جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو مقدمے کے چشم دید گواہ نے بیان قلمبند کرادیا۔ عدالت نے بیان سیل کردیا۔ عینی شاہد نے مجسٹریٹ کے سامنے سنسنی خیز انکشافات کیے گواہ نے بیان میں کہا کہ ملزم عاطف زمان نے میرے سامنے مرید عباس پر فائرنگ کی۔ میں اور مرید عباس سمیت 4 لوگوں نے رقم انویسٹ کی۔ ابتدا میں لاکھوں روپے سے شروع ہونے والی انویسٹمنٹ کروڑوں روپے تک جاپہنچی۔رمضان کے بعد عاطف زمان نے منافع دینا کم کردیا۔ منافع کی کمی کے باعث ہم نے عاطف زمان سے رقم کا مطالبہ کیا۔ وقوعہ والے روز ہم عاطف زمان کے دفتر پہنچے۔ عاطف زمان نے مرید عباس کے بعد مجھے بھی مارنے کی کوشش کی۔ میں نے عاطف زمان کا پستول پکڑ لیا اور دھکا دے کر بھاگ گیا۔ عدالت نے بیان قلمبند کرنے کے بعد سیل کردیا۔ عدالت نے حکم دیا کِہ گواہ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا صرف 4 گواہوں کے بیان قلمبند ہو سکے۔عدالت نے سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی۔
مرید عباس قتل کیس