محکمہ بلدیات سندھ نے اربوں روپے غیر ترقیاتی اخراجات پر اڑا دیے

97

کراچی (رپورٹ: محمد انور) اربوں روپے کے مالی بحران سے دوچار سندھ حکومت کے محکمہ بلدیات نے ختم ہونے والے مالی سال کے دوران غیر ضروری اخراجات کی مد میں مجموعی طور پر 2 ارب 16 کروڑ سوا 4 لاکھ روپے خرچ کیے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق ان اخراجات میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر رکھے گئے افسران کی تنخواہوں وغیرہ پر خرچ کی جانے والی رقم جو مجموعی طور پر 2 کروڑ 97 لاکھ روپے ہے وہ بھی شامل ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کنٹریکٹ پر افسران سمیت کسی کی بھی خدمات حاصل کرنے پر پابندی عاید کی
ہوئی ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ حکومت سندھ نے عدالت کے حکم کو نظر انداز کیا ہوا ہے۔ دستاویزات سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ مالی بحران کے باوجود صوبے کے اس محکمہ بلدیات کے افسران و ملازمین کو بھی اضافی تنخواہوں پر مبنی اعزازیے سے بھی نوازا گیا ہے جہاں ’’اوپر کی آمدنی ‘‘ غیر معمولی ہونے کے شواہد و شکایات موجود ہیں۔ اعزازیے کی مد میں محکمے کے عملے کو مجموعی طور پر 6 کروڑ 9 لاکھ 30 ہزار روپے بنتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ محکمے نے سرکاری کاروں وغیرہ کے پیٹرول ، آئل اور ڈیزل کی مد میں بھی ایک کروڑ 37 لاکھ روپے کے اخراجات ظاہر کیے ہیں۔ساتھ کی کاروں کی دیکھ بھال کی مد میں گزشتہ مالی سال میں 30 لاکھ 98 ہزار روپے کے اخراجات ظاہر کیے ہیں۔ دیگر صوبائی ڈپارٹمنٹس کی طرح بلدیات میں بھی’’ ادر جنرل ‘‘ کے نام سے حسابات کا ایک ہیڈ ہے جس میں گزشتہ سال کے دوران جو خرچہ بتایا گیا ہے وہ 10 کروڑ 59 لاکھ 59 ہزار روپے ظاہر کیا گیاہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان اخراجات کے حوالے سے کوئی اتھارٹی اب تک سامنے نہیں آسکی جو اس کا حساب لے سکے۔
محکمہ بلدیات