وزیر اعظم دورہ امریکاسے بڑے فا ئدے اُ ٹھاسکتے ہیں

86

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ امریکہ کا رویہ پاکستان سے بہتر ہو رہا ہے اور ایک علیحدگی پسند تنظیم کوعالمی دہشت گرد قرار دینا اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ اس تناظر میں کاروباری برادری اور عوام کو وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ وزیر اعظم کے دورے کے نتیجہ میں دونوں ممالک کے تعلقات بہتری کی طرف جا سکتے ہیں جبکہ آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کا سخت موقف بھی نرم ہو سکتا ہے ۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے گفتگو میں کہا کہ وزیر اعظم کے دورے کے نتیجہ میں اگر عالمی اداروںنے کچھ نرمی اختیار کی تو عوام اور کاروباری برادری کی مشکلات میں کمی آسکتی ہے۔دورے کے دوران مقبوضہ کشمیر کے مسئلے میں بہتری کی کوئی خاص امید نہیں کیونکہ امریکہ اور بھارت کے مابین ہنی مون چل رہا ہے ۔افغانستان کے متعلق معاملات مزید بہتری کی جانب بڑھ سکتے ہیں جبکہ امریکہ اور طالبان کے مابین امن معاہدے پراہم پیش رفت پاکستان کے تعاون سے ہی ممکن ہے جس سے امریکہ افغانستان میں سالانہ50 ارب ڈالر ضائع کرنے سے بچ سکتا ہے جسکے نتیجے میں امریکی فوج کی واپسی ممکن ہو گی لہٰذاپاکستان اپنی مضبوط پو ز یشن سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ بھارت اس سلسلہ کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرے گا جسے لگام دینے کی پوری ذمہ داری امریکہ پر ڈالی جائے۔ دورے سے امریکہ کے ایران اور چین سے تنازعات اور خطے میں جاری تجارتی کشیدگی کے بارے میں بھی اہم پیش رفت ہو سکتی ہے کیونکہ ان سے پاکستان پر بھی اثرات پڑ رہے ہیں۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ امریکہ نے کولیشن سپورٹ فنڈکی مد میں پاکستان کے2 ارب ڈالر روک رکھے ہیں جنھیں وزیر اعظم اپنے دورے کے دوران واگزار کروائیں۔