ایشیا کا سب سے بڑا ویزہ سینٹر ستمبرسے کراچی میں کام شروع کرے گا، امارتی سفیر

64

کراچی(اسٹاف رپورٹر)متحدہ عرب امارات کے سفیر حماد عبید الزابی نے کہا ہے کہ کراچی میں ایشیا کا سب سے بڑا ویزا سینٹر ستمبر 2019کے پہلے ہفتے میںکام شروع کردے گا جبکہ دوسرا ویزہ سینٹر اسلام آباد میں اکتوبر2019 کے پہلے ہفتے میں کام شروع کرے گا جو پاکستان میں ہی تمام سہولیات فراہم کرے گا۔کراچی کے ویزہ سینٹر میں میڈیکل انشورنس،چیک اپس اور کنٹریکٹ وغیرہ کی تمام سہولیات سمیت ہر چیز ہوگی جو ایشیا کا سب سے بڑا ویزہ سینٹر ہو گا جبکہ یواے ای سے پوری ٹیم خیابان شمشیر کراچی میں واقع اس ویزہ سینٹر کے لیے یہاں آئے گی۔یہ بات انہوں نے جمعہ کو کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی ) کے دورے کے موقع پر اجلاس میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پرڈپٹی قونصل جنرل یواے ای بخیت عتیق الریمیتھی،چیئرمین بزنس مین گروپ و سابق صدر کے سی سی آئی سراج قاسم تیلی،صدر کے سی سی آئی جنید اسماعیل ماکڈا،سینئر نائب صدر خرم شہزاد، نائب صدر آصف شیخ جاوید اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی اجلاس میں شریک تھے۔امارتی سفیر نے شاندار مہمان نوازی پر کے سی سی آئی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے فیصل آباد،لاہور،پشاور، ساؤتھ وزیرستان اور کوئٹہ سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں کادورہ کیا لیکن کراچی پاکستان کا انتہائی اہم شہر ہے جہاں سماجی زندگی،ماحول،ثقافت اور لوگ اسلام آباد سمیت دیگر علاقوں کی نسبت بہت مختلف ہیں۔انہوں نے کہاکہ یواے ای اور پاکستان کے درمیان تعلقات ہمیشہ مضبوط اور تاریخی رہے ہیں لیکن انہیں تجارت وسرمایہ کاری کے مواقع کو تلاش کرکے مزید مستحکم کیاجاسکتا ہے۔امارتی اور پاکستانی حکومت تجارت و سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی کوششیں کررہی ہیں۔ہم تعاون کے نئے شعبوں کو تلاش کرنے کی بھی کوشش کررہے ہیں جہاں ہم مشترکہ طور پر کام کرسکیں اور چیلنجنگ ایریاز کا جائزہ بھی لے رہیں تاکہ امارتی حکام ان پر توجہ دے سکیں۔انشاء اللہ ہم مستقبل میں بھی ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر آگے بڑھیں گے۔انہوںنے بتایاکہ یو اے ای5سال کے لیے سلور انویسٹمنٹ ویزہ اور 10سال کے لیے گولڈن انویسٹمنٹ ویزہ کی پیشکش کرتا ہے جو ایک مخصوص طریقہ کار کے تحت جاری کیے جاتے ہیں جن کا انحصار کمپنی کے سائز اور سرمایہ کاری کی مالیت پر ہو تا ہے ۔انہوں نے یواے ای اور پاکستان کے درمیان سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور محفوظ بنانے کے لیے قانونی طریقہ کار وضع کرنے پر بھی زور دیا۔