سرکاری اسکولوں میں رقص کی کلاسز حکمرانوں کیلیے لمحہ فکر ہے

68

فیصل آباد(وقائع نگار خصوصی)اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم حافظ امان اللہ نے کراچی میں زندگی ٹرسٹ کو دیے گئے سرکاری اسکول میں موسیقی کی اجازت کے انکشاف اور گورنمنٹ گرلز اسکول ایس ایم بی فاطمہ جناح میں میوزک کلاسز کیلیے خاموشی سے عمارت کا ایک حصہ مختص کرنے والی خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے اسلام، نظریہ پاکستان اور دستور کے خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ طرز حکومت کے دعویداروں کے دور میں سرکاری اسکولوں میں ناچ گانے، رقص کی کلاسز نہ صرف حکمرانوں کے لیے لمحہ فکر بلکہ یہ اللہ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ حکومت عالمی سامراج کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلیے مادر پدر آزادی اور روشن خیالی کے نام پرنوجوان نسل کا مستقبل تباہ اور ملک کی نظریاتی سرحدوں کو کھوکھلا کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ وہ اس کی آڑ میں مغرب کی طرح ہماراخاندانی نظام بھی تباہ وبرباد کرنا چاہتے ہیں جہاں پرماں بیٹی بہن کے مقدس رشتوں کی تمیزواحترام نہیں ہے۔آج ہمارے معاشرے میں نوجوانوں میں بڑہتی ہوئی بے راہ روی اورمعصوم بچیوں کے ساتھ بڑہتے ہوئے جنسی واقعات اسی کا شاخسانہ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ زندگی ٹرسٹ کو دیے گئے سرکاری اسکولز میں میوزک کلاسز کا نوٹس لیا جائے۔ پاکستان کے دستور میں واضح طور پر درج ہے کہ یہاں پر کوئی بھی کام قرآن و سنت کے خلاف نہیں ہوگا۔