ٹنڈوالٰہیار،پابندی کے باوجود مضر صحت مین پوری وگٹکے کی فروخت

105

ٹنڈوالٰہیار (نمائندہ جسارت) ضلع ٹنڈوالٰہیار میں پابندی کے باوجود مضر صحت مین پوری، گٹکا اور انڈین پان پراگ کی کھلے عام فروخت کا سلسلہ جاری ہے۔ شہر کے مختلف تھانوں کے پولیس اہلکار ایس ایس پی کے احکامات کو ہوا میں اڑاتے ہوئے مضر صحت اشیا کے اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث افراد کے سرپرست بن گئے اور ایس ایس پی کو اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے بڑے بڑے ڈیلرز پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے راہ چلتے عام شہریوں کی تلاشی لے کر مین پوری، گٹکا نکلنے کی صورت میں بھاری رشوت طلب کرنا معمول بنالیا ہے۔ جرائم پیشہ اور منشیات فروشوں کیخلاف کارروائی کے احکامات کو پولیس نے ہوا میں اڑا دیے اور شہر کے مختلف تھانوںکی حدود ٹنڈوالٰہیار، چمبڑ، مسن، سلطان آباد، بکیرا شریف، نصرپور، عثمان شاہ ہڑی، دھنگانہ بوزدار، پیارو لونڈ، پیر کاٹھی، ڈاسوڑی میں پولیس کی سرپرستی میں مضر صحت مین پوری، گٹکا، انڈین پان پراگ کی کھلے عام فروخت کا سلسلہ جاری ہے جبکہ پولیس اس غیر قانونی دھندے میں ملوث بڑے بڑے ڈیلرز کیخلاف رسمی کارروائی کرتی دکھائی دیتی ہے، اس کے برعکس راہ چلتے عام شہریوں کو پکڑ کر ان کی جامعہ تلاشی لی جاتی ہے۔ مین پوری، گٹکا نکلنے کی صورت میں انہیں گرفتار کرکے تھانہ لے جایا جاتا ہے، جہاں بھاری رشوت طلب کی جاتی ہے، نہ دینے کی صورت میں پولیس چرس اور شراب برآمدگی کا چالان عدالت میں پیش کردیتی ہے جبکہ پولیس اہلکار مین پوری وگٹکا تیار اور فروخت کرنے والے بڑے بڑے ڈیلرز سے ہفتہ وار موکل کے نام پر لاکھوں روپے بھتا وصول کر کے حصہ اوپر تک پہنچاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ٹنڈوالہٰیار میں غیر قانونی مضر صحت مین پوری وگٹکے کی تیاری اور خرید و فروخت میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ پابندی کا سب سے زیادہ فائدہ بھی ڈیلرز اور پولیس اہلکاروں کو ہوا ہے اور پابندی کے بعد 20 روپے میں ملنے والی مین پوری 50 روپے اور 30 روپے میں فروخت ہونے والی مین پوری بڑھ کر 80 روپے تک فروخت ہورہی ہے۔ اسی طرح پولیس اہلکاروں نے بھی اپنی ہفتہ وار موکل میں 10 گناہ اضافہ کردیا ہے۔ اس حوالے سے عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مضر صحت مین پوری اور گٹکا کے استعمال سے کئی علاقوں میں درجنوں نوجوان کینسر میں مبتلا ہو کر فوت ہوچکے ہیں اور درجنوں افراد زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں اور عدالت کی جانب سے نوٹس لینے پر مین پوری کی پابندی پر چند روز سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے لیکن بعد میں بھاری رشوت کے عوض اس گھنائونے کاروبار میں ملوث انسانیت کے دشمنوں کو کھلی چھوٹ دے دی جاتی ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ اس غیر قانونی دھندے کی سرپرستی کرنے والے اہلکاروں کیخلاف قانونی کارروائی کرکے انہیں نوکریوں سے برطرف کیا جائے تا کہ نوجوان نسل کو مکمل تباہ ہونے سے بچایا جاسکے۔ اس کے علاوہ ضلع بھر میں آکڑا پرچی کا جوا بھی کھلے عام چل رہا ہے اور گلی کوچوں کے کناروں پر اور ہوٹل پر آکڑا پرچی کا کاروبار چل رہا ہے، جس کے سبب سیکڑوں گھر تباہ ہوچکے ہیں۔ اس کے باوجود ہماری انتظامیہ اس کاروبار کرنے والوں کیخلاف اور اس کاروبار کی سرپرستی کرنے والوں کیخلاف کارروائی کرنے سے گریزاں ہے۔