احتجاجی نرسوں سے ایک اور وعدہ

161

کراچی میں صوبائی حکومت پھر سے احتجاجی نرسوں پر ٹوٹ پڑی ۔ ان نرسوں پر بہیمانہ لاٹھی چارج کیا گیا اور متعدد کو گرفتار بھی کرلیا گیا ۔یہ نرسیں گزشتہ 14 روز سے کراچی پریس کلب پر سراپا احتجاج ہیں اور کوئی ان کی داد رسی کرنے والا نہیں ہے ۔ ان احتجاجی نرسوں کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ حکومت نے ان سے گزشتہ احتجاج کے بعد جو معاہدہ کیا تھا اس پر عملدرآمد کیا جائے ۔جب ان احتجاجی نرسوں پر شدید تشدد کرلیا گیا تو وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو علم ہو اکہ کوئی احتجاج بھی کررہا ہے ۔ میڈیا پر خبریں آنے کے بعد سید مراد علی شاہ نے گرفتار نرسوں کی رہائی کا حکم جاری کیااور اپنے نمائندے بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کو مضروبوں کے پاس بھیجا جنہوں نے پھر سے تمام وعدوں کی تکمیل کے لیے نوٹیفکیشن جلد ہی جاری کرنے کا ایک اور وعدہ کرلیا ۔ عجیب سی بات ہے کہ جب تک احتجاج نہ کیا جائے ، کوئی سنتا ہی نہیں ۔ یہ احتجاجی نرسیں بھی گزشتہ دو ہفتوں سے احتجاج کررہی تھیں مگر صوبائی حکومت کان میں تیل ڈالے سورہی تھی ۔مجبور ہوکر ان نرسوںنے وزیر اعلیٰ ہاؤس کی طرف مارچ کا اعلان کیا تو پولیس ان پر ٹوٹ پڑی ۔ اگر ملک میں جمہوریت ہے تو پھر وزیر اعلیٰ سندھ کو احتجاج کے حق کو تسلیم کرنا چاہیے ۔ اصولی طور پر ہر قسم کا احتجاج وزیر اعلیٰ ہاؤس ہی پر ہونا چاہیے کہ انہیں پتا چل سکے ان کی راجدھانی میں ہو کیا رہا ہے ۔ یہ روایت ڈالنا درست نہیں ہے کہ جب تک پرتشدد احتجاج نہیں ہوگا ، کوئی شنوائی ہی نہیں ہوگی ۔ اگر یہ روایت پڑ گئی تو پھر مظاہرین پرامن احتجاج سے آگے بڑھ کر سرکاری املاک بشمول وزیر اعلیٰ ہاؤس پر حملہ آور بھی ہوسکتے ہیں ۔ پرہیز علاج سے بہتر ہے کے مصداق پہلے ہی تدبیر کرلی جائے تو بہتر ہوگا ۔