ایس ای سی پی کے لیے لا قانونیت کا قانون

294

سیکوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے گھروں اور دفاتر پر چھاپے مارنے کے حوالے سے قوانین جاری کردیے ہیں ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ایس ای سی پی کے افسران کسی بھی دفتر یا گھر پر چھاپے مارنے کے دوران دروازے اور کھڑکی توڑ کر داخل ہوسکتے ہیں ۔ اس ضابطے کے تحت ایس ای سی پی کے عملے کو کسی بھی دفتر میں گھس کر الیکٹرانکس اشیاء کو قبضے میں لینے کا بھی اختیار دیا گیا ہے ۔ چھاپے کے وقت ایس ای سی پی مقامی پولیس کو ساتھ رکھے گی اور اگر قبضے میں لی گئی اشیاء غیر ضروری ثابت ہوئیں تو وہ واپس کردی جائیں گی ۔ ایس ای سی پی کے اس خودساختہ نوٹی فکیشن کو قانون کا نام دیا گیا ہے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ایس ای سی پی کو قانون سازی کا اختیار ہی نہیں ہے ۔ قانون سازی کا اختیار صرف اور صرف پارلیمنٹ کو ہے ۔ بقیہ تمام ادارے پارلیمنٹ کی جانب سے کی گئی قانون سازی کے دائرے میں کام کرنے کے پابند ہوتے ہیں جس میں ایس ای سی پی بھی شامل ہے ۔ پارلیمنٹ کو بھی حدود و قیود سے آزاد قانون سازی کی اجازت نہیں ہے اور پارلیمنٹ بھی آئین کے تحت دی گئی حدود ہی میں قانون سازی کرسکتی ہے ۔ آئین سے متصادم قانون کو کوئی بھی عدالت فوری طور پر منسوخ کرسکتی ہے چاہے وہ قانون پارلیمنٹ سے متفقہ طور پر منظور کیا گیا ہو ۔ انسانی حقوق کے حوالے سے آئین میں واضح شقیں موجود ہیں جن میں ایک فرد کے حقوق کو ریاستی جبر سے تحفظ دیا گیا ہے ۔ جب ایس ای سی پی کو قانون سازی کا اختیار ہی حاصل نہیں تواس نے کس طرح یہ اعلامیہ جاری کیا ۔ایس ای سی پی ہو یا کوئی اور ادارہ ، کس طرح سے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرسکتا ہے ۔ ایس ای سی پی کی عملداری میں ٹیکس کے معاملات آتے ہیں ۔ اس میں ایسی کون سی ہنگامی صورتحال ہے کہ ایس ای سی پی کے افسران محض علاقہ پولیس کو ہمراہ لیں اور رات کے اندھیرے میں کسی بھی گھر پر حملہ آور ہوجائیں ، دروازے کھڑکیاں توڑ کر اندر داخل ہوں اور جو جی چاہے وہ سامان اٹھا کر لے جائیں اوربعد میں دیکھا جائے کہ اس میں کام کی اشیاء کتنی ہیں اور کتنی نہیں ۔ آئین اور قانون اس طرح کسی کے گھر،گاڑی یا دفتر پر چھاپے مارنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ اگر کسی کے خلاف شواہد موجود ہیں کہ اس نے بھاری پیمانے پر ٹیکس چوری کی ہے تو اس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جاتا ہے اور اس کے گھر یا دفتر پر چھاپے مارنے کی اجازت طلب کی جاتی ہے ۔ ٹیکس چوری کی دستاویزات ایسی نہیں ہوتیں کہ انہیں غائب کردیا جائے ۔ ان کی پوری ٹریل ہوتی ہے اور انہیں ادھر ادھر کرنا ناممکن ہوتا ہے ۔ ایس ای سی پی کے موجودہ نوٹیفکیشن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب ملک میں کوئی آئین یا قانون نہیں رہا ہے اور جس کا جو جی چاہے ، اسے وہ کچھ کرنے کی ریاستی تحفظ میں مکمل آزادی ہے ۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا ، کچھ ایسے ہی اختیارات کا استعمال کے الیکٹرک بھی کرتی رہی ہے ۔ کے الیکٹرک نے اپنے ادارے کی پولیس فورس بنائی ہوئی تھی اور حراستی مراکز بھی ۔ یہ کسی کو بھی اغوا کرکے لے جاتی اور حراستی مراکز میں ان پر تشدد بھی کیا جاتا ۔ تاوان کے انداز میں مطلوبہ رقم کی وصولی کے بعد ہی انہیں رہائی ملتی ۔ کے الیکٹرک کی دیدہ دلیری کا یہ عالم تھا کہ وہ ایف آئی اے کی مدد سے گرفتاری کے اشتہارات اخبارات کے صفحہ اول پر شایع کرواتی رہی اور کسی نے نہ تو ان کا ہاتھ روکا اور نہ ہی یہ پوچھا کہ غیر قانونی پولیس فورس اور غیر قانونی حراستی مرکز ایک نجی ادارہ کیسے چلا سکتا ہے ۔ اب یہی تمام کام ایس ای سی پی کرنے جارہی ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نئے پاکستان کو اب پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کردیا گیا ہے اور آئی ایم ایف کی ہدایت پر ہر قسم کے ٹیکس کی وصولی کرنے والے ادارے کو یہ آزادی دے دی گئی ہے کہ وہ موقع پر ہی کسی بھی فرد کو حراست میں لے لے اور اس کی مملوکہ اشیاء کو موقع پر خود ہی قرق کرلے ۔ قیام پاکستان سے قبل تو اس طرح کی مثالیں موجود ہیں کہ لگان جمع کرنے والوں نے مطلوبہ لگان نہ ملنے کی صورت میں گاؤ ں کے سارے مال مویشی اور دستیاب اجناس کو سرکار کے نام پر ضبط کرلیا ۔ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو کل کلاں ایس ای سی پی کسی بھی فرد کے اہل خانہ کو بھی اس وقت تک یرغمال بناسکتا ہے جب تک اس پر جو بھی ٹیکس عاید کیا ہے وہ وصول نہ ہوجائے ۔ ایک جانب وزیر اعظم عمران خان فرمارہے ہیں کہ ادارے قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں تو دوسری جانب ان ہی کی سرکردگی میں ادارے آئین کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس پر تمام ہی سیاسی جماعتوں اور ایوان تجارت و صنعت کو آواز بلند کرنی چاہیے ۔ اس aپر آئینی ماہرین کو بھی اپنی رائے پیش کرنی چاہیے ۔ آئین ہی وہ دستاویز ہے جس کے تحت ملک کو چلایا جاتا ہے ۔ایس ای سی پی تو ایک ادارہ ہے ، آئین سے ماورا اقدامات کی تو پارلیمنٹ سمیت کسی کو بھی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ اس معاملے پر انکم ٹیکس بار ایسوسی ایشن اور دیگر وکلاء تنظیموں کو بھی اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنا چاہیے ۔ ایس ای سی پی کا یہ اقدام کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔ اگر اسے یہیں پر نہیں روکا گیا تو ملک میں فرد کے سارے حقوق ریاستی جبر کی نذر ہوجائیں گے اور پاکستان ایک پولیس ریاست میں تبدیل ہو کر رہ جائے گا ۔ اس کی اسلامی شریعت میں بھی اجازت نہیں ہے ۔ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رات کو دوران گشت ایک گھر سے راگ رنگ کی آواز سنی ۔ وہ دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوئے تو محفل سجی ہوئی تھی ۔ صاحب خانہ کے اعتراض پر کہ کسی کو بھی کسی کے گھر میں اس طرح سے داخلے کی اجازت نہیں ہے ، حضرت عمر نے اس دلیل کو تسلیم کیا اور معافی بھی مانگی ۔حالانکہ جرم سامنے تھا اور مجرم کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا مگر چادر اور چار دیواری کے تقد س کی پامالی کی اجازت نہیں تھی اس لیے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوئی کارروائی نہیں کی ۔ پھر یہ ایس ای سی پی کس طرح سے کسی کے گھر میں بلااجازت ، بلا وارنٹ اور بلا کسی مجسٹریٹ کے کسی کے بھی گھر میں گھسنے کا اعلان کرسکتی ہے ۔ اگر اسے فوری طور پر نہ روکا گیا تو اس سے ملک میں انارکی بڑھے گی اور اس طرح کے قوانین سے عاجز آکر عوام قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیں گے ۔ پھر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ کسی کے گھر میں گھس کر سامان اُٹھا لیا جائے اور وہ کام نہ ہو تو واپس کر دیا جائے ۔