صدقہ ذکوۃ سے کام نہیں چلے گا ہر شخص کو ٹیکس دینا ہوگا،شبر زیدی

354

اسلام آباد (خبر ایجنسیاں) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی نے کہا ہے کہصدقہ زکوٰۃ سے کام نہیں چلے گا‘ ہرشخص کو ٹیکس دینا ہوگا‘ لاہور کی 9 بڑی مارکیٹیں سالانہ ایک لاکھ روپے سے بھی کم ٹیکس ادا کر رہی ہیں‘ حوالہ، ہنڈی نے ملکی معیشت کو بہت نقصان پہنچایا‘ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا غلط استعمال ہوا‘ پاکستان سیمی مینوفیکچرنگ سے ٹریڈنگ ملک بن گیا، چاکلیٹ اور منرل واٹر سمیت ہر چیز درآمد ہو رہی ہے جو خطرناک عمل ہے‘ جس پر ہاتھ ڈالو کہتا ہے میرا پرائز بانڈ نکلا ہے‘ میرا توآج تک نہیں نکلا‘ ٹیکس اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شبر زیدی نے کہا کہ گزشتہ برس پاکستان کی درآمدات 51 ارب ڈالرز رہیں جبکہ برآمدات21 ارب ڈالرز تک ہیں‘ اس طرح کوئی ملک نہیں چل سکتا۔انہوں نے کہا کہ ہر شخص کی حقیقی آمدن پر ٹیکس لگانا ضروری ہے‘ پاکستان میں فقیر کے پاس بھی شناختی کارڈ ہے لیکن پورا ملک شناختی کارڈ مانگنے پر شور کر رہا ہیتاہم اگر کسی نے 50 ہزار روپے کی شاپنگ کی ہے تو اسے شناختی کارڈ دکھانا پڑے گا‘ شناختی کارڈ دکھانے میں آخر مسئلہ کیا ہے‘ گزشتہ 15روز میں بہت زیادہ دبائو برداشت کیا ہے‘ ہر روز13، 14وفود سے مذاکرات کر رہا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ 40 ہزار روپے کے پرائز بانڈز کو ختم کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود جس پر ہاتھ ڈالو کہتا ہے میرا پرائز بانڈ نکلا ہے‘ میرا آج تک انعام نہیں نکلا لیکن یہاں ہر شخص کہتا ہے‘ مجھے تحفہ ملا ہے۔انہوں نے کہا کہملک میں ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ ٹیکس ختم کردو لیکن اب زکوٰۃ ، صدقہ، خیرات دینے سے کام نہیں چلے گا اور ہر شخص کو مساوی ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کی نمائندہ برائے پاکستان ماریا ٹریسا کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پاکستان میں منافع کمانے نہیں آتا اور جب رکن ممالک مشکل میں ہوں تو پروگرام دیتے ہیں‘ 2016ء کے بعد پاکستان کی معیشت خراب ہونا شروع ہوئی اور پاکستان کے بجٹ خسارے میں اضافہ ہوا ہے‘ پاکستان کے سرکاری اداروں کے نقصانات مسلسل بڑھتے جارہے ہیں‘ پاکستان کے قرضے بلحاظ جی ڈی پی 80 فیصد تک پہنچ چکے ہیں‘ سود کی ادائیگیوں پر25 فیصد بجٹ خرچ کیا جا رہا ہے جو کسی طور بھی معیشت اور پائیدار ترقی کے لیے اچھا نہیں ہے۔