یوبی جی کو پاکستان کے کاروباری طبقہ کی سرپرستی حاصل نہیں رہی ،سینیٹر غلام علی

66

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سیکرٹری جنرل بزنس مین پینل سینیٹر حاجی غلام علی نے ببز نسمین پینل کور کمیٹی کے اجلاس کی تفصیلات میڈیا کے نمائندوں کو بتاتے ہوئے کہا کہ بہت جلد بزنسمین پینل کی طرف سے ایف پی سی سی آئی کے دسمبر میں ہونیوالے الیکشن کے لئے مظبوط شخصیت کے حامل امیدواران کا اعلان کر دیا جائے گا جو تجربے کی بنیاد پر اپنے شعبوں میںاعلیٰ مقام رکھتے ہونگے۔حاجی غلام علی نے کہا کہ آج جب پاکستان کی بزنس کمیونٹی پوسٹ بجٹ حالات پر سراپا احتجاج ہے تو فیڈریشن بالکل بے بس نظر آئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ فیڈریشن چیمبرز میں برسر اقتدار یونائیٹڈ گروپ یو بی جی کسی خوس فہمی میں نہ رہے کہ انھیں ملکی کی بزنس کمیونٹی کی سپورٹ حاصل ہے، ایسی بات بالکل نہیں ہے بلکہ پاکستان بھر کا کاروباری طبقہ یو بی جی سے بد ظن ہو چکا ہے، یو بی جی کیطرف سے مسلسل ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے کہ چار سال پہلے فیڈریشن کا خزانہ بالکل خالی تھا اور اب بھر دیا گیا ہے یہ سراسر جھوٹ اور منافقانہ بات ہے جس سے بزنس کمیونٹی کوگمراہ کیا گیا اور ہنوز کیا جارہا ہے۔حاجی غلام علی نے کہا کی یوبی جی فیڈریشن چیمبرز کے لئے دفاتر اور بلڈنگز کا کریڈٹ لے رہی ہے یہ بھی جھوٹ ہے یہ تو بزنسمین پینل کی کاوشوں کا تسلسل تھا جو کہ حکومت اور بزنس کمیونٹی کے تعاون سے فیڈریشن دفاتر کے لئے بلڈنگز بنائی گئیں، کراچی اسلام آباد اور پشاور میں فیڈریشن چیمبرز کے لئے بلڈنگز بنانا اور پلاٹ لینا بزنس مین پینل کی کاوشوں کا تسلسل تھا اور یہ احسان نہیں تھا یہ ہمارا فرض تھا ۔ انھوں نے کہا کہ بجٹ کے بعد تاجر کنفیوز اور پریشان ہے اور مزید یہ کہ فیڈریشن چیمبرز کی طرف سے بزنس کمیونٹی کے حق میں کوئی آواز نہیں اٹھائی جا رہی۔بزنسمین پینل اس سلسلے میں چیمبرز اور ایسوسی ایشنز سے رابطے کرے گا تاکہ ایف پی سی سی آئی کا وقار بحال ہو سکے۔ اس موقع پر بزنسمین پینل کے مرکزی ترجمان احمد جواد نے کہاہے کہ حکومت بزنس کمیونٹی کے ساتھ معنی خیز مذاکرات کرے تاکہ ہڑتالوںکا سلسلہ رک سکے اور تاجروں میں بے چینی کا خاتمہ ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی بڑی مارکیٹیں بند ہو جانے سے ایک دن میں کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ تاجر ملک کا سرمایہ ہیں اور اس وقت ملک میں کاروباری مندے کی وجہ سے ملکی معیشت اور برآمدات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ حکومت مشینری کو رواں دواں رکھنے کے لیے بزنس کمیونٹی کے تمام طبقات زیادہ ریونیو فراہم کرتی ہے لہٰذابزنس کمیونٹی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے سازگار ماحول ملک کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے بہت ضروری ہے۔