حکومت 20 دن دھرنے کی مار ہے مدارس پر سمجھوتا نہیں ہوگا،فضل الرحمٰن

110

ملتان /اسلام آباد(صباح نیوز) جمعیت علما اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ادارے عوام سے تصادم کی راہ پر گامزن ہیں ، ہم 20دن بھی دھرنا دیں تو حکومت کو بچنے کا وقت نہیں ملے گا۔ مولانا فضل الرحمن نے ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مدارس کی آزادی پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے اور کسی امریکی ایجنڈے کو قبول نہیں کریں گے، مدارس کا خاتمہ ان کا اصل ایجنڈا ہے لیکن مدارس کی آزادی اور نصاب پر جبر مسلط نہیں ہونے دیںگے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ امریکا قادیانیت اور توہین رسالت قوانین کے حوالے سے پاکستان پر دبا ئوڈال رہا ہے، لیکن بین الاقوامی ایجنڈا پاکستان پر مسلط نہیں ہونے دیںگے، سی ٹی ڈی دینی مدارس کے خلاف کارروائیاں کررہا ہے اور سی ٹی ڈی کے لیے فنڈنگ امریکا کررہا ہے، حافظ سعید کی گرفتاری ٹرمپ کو تحفے میں دی گئی اور امریکی صدر نے گرفتاری کو سراہا۔رہنما جے یو آئی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے خلاف نیب کو استعمال کیا جارہا ہے، اسی لیے شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کیا گیا ہے،وزیر اعظم کے خلاف مقدمات ہیں لیکن ادارے خاموش ہیں اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بھی مقدمات میں مطلوب ہیں، ادارے عوام کے ساتھ تصادم کی راہ پر گامزن ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے مطالبہ کیا کہ ملک میں اسمبلی تحلیل کرکے انتخابات کرائے جائیں، 25جولائی کو ملک بھر میں یوم سیاہ منایا جارہا ہے اور 28جولائی کو کوئٹہ میں ملین مارچ ہوگا، ہم 20دن بھی دھرنا دیں تو حکومت کو بچنے کا وقت نہیں ملے گا۔مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ جج کی وڈیو سامنے آنے کے بعد نواز شریف کو بند رکھنے کا اخلاقی جواز ختم ہو گیا ہے، فاٹا الیکشن میں فوجی ہر بوتھ پر کھڑا ہوگا، فوج کی نگرانی میں الیکشن کا حال 25جولائی 2018ء والے جیسا ہوگا۔مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ یہ لوگ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے امریکا بھیک مانگنے جارہے ہیں، قادیانی لابی متحرک ہوچکی ہے۔امریکاتحفظ ختم نبوت قانون کے حوالے سے پاکستان پر دبائو ڈالنا چاہتا ہے جس پر امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی گفتگو بھی سامنے آچکی۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ قوم ہوشیار رہے ہم کسی قیمت پر بین الاقوامی ایجنڈا ملک پر مسلط نہیں ہونے دیں گے۔