سیاسیدانوں کی اقسام

72

ابن تیمیہؒ

سیاستدانوں کی تین قسمیں ہیں:
1۔اپنی برتری کے خبطی:
ایک گروہ وہ ہے جس کو دنیا میں اپنی برتری کا خبط اور تخریبی کارروائیوں کا چسکا ہے ان لوگوں کو عاقبت اور اپنا انجام بالکل دکھائی نہیں دیتا۔
چونکہ ان کا ترکشِ حیات عمل صالح اور کردار کے تیروں سے خالی ہے اس لیے وہ اپنی اس کمی کو پورا کرنے کے لیے یہ رائے رکھتے ہیں کہ اپنی شان وشوکت اور ہر دل عزیزی کو قائم رکھنے کے لیے ’’داد ودہش‘‘ کرنا ضروری ہے یعنی روٹی کپڑے کا جال بچھا کر لوگوں کا شکار کیا جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے مال ناجائز طریقے سے حاصل کیا جائے۔ چنانچہ پہلے وہ لوگوں کو لوٹتے پھر سیاسی رشوت کے طور پر اسے لٹاتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سیاسی رشوت دیے بغیر کرسیٔ اقتدار کا تحفظ ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ جب کوئی ایسا بے لوث جو کھانے کھلانے کی بات نہیں کرتا، آجاتا ہے تو حکامِ بالا کی نگاہِ کرم بدل جاتی ہے اور اسے معزول کر کے دم لیتے ہیں۔
یہ وہ طبقہ ہے جس نے دنیا ہی کو سب کچھ سمجھ لیا ہے اور آخرت کو مہمل جان کر نظر انداز کردیا ہے اگر توبہ کرکے اصلاحِ حال کی طرف توجہ نہ دی تو دنیا اور آخرت دونوں اعتبار سے ان کا انجام بُرا برآمد ہوگا۔
2۔اللہ سے ڈرنے والے:
دوسرے وہ لوگ ہیں جو خوفِ خدا رکھتے ہیں اور اپنے ایمان پر قائم ہیں جو ان کو مخلوقِ خدا پر ستم ڈھانے اور ناجائز کاموں کے ارتکاب کرنے سے باز رکھتا ہے لیکن وہ بھی یہ یقین رکھتے ہیں کہ غلط راہ چلے بغیر سیاست چلتی نہیں۔
بسا اوقات بزدلی، بخیلی اور تنگ ظرفی کے بھی بیمار ہوتے ہیں۔ اس لیے اپنی دینداری کے باوجود کبھی ’’واجب‘‘ کام چھوڑ بیٹھتے ہیں جو بعض محرمات کے ارتکاب سے بھی زیادہ سنگین نکلتا ہے۔ خود کیا دوسروں کو بھی ’واجب‘ سے باز رکھنے کا ارتکاب کر ڈالتے ہیں جو سر تاپا راہِ حق مارنے کے مترادف ہوتا ہے بلکہ تاویل کرکے بعض اوقات وہ دینی فریضہ چھڑانے کے لیے خارجیوں کی طرح مسلمانوں کے خلاف جہاد بھی کر گزرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے ہاتھوں نہ دنیا کی بگڑی بن پاتی ہے اور نہ دینِ کامل کی کوئی خدمت ہو سکتی ہے۔ ان کی اجتہادی فروگزاشتوں سے تو درگزر ممکن ہے لیکن ان کی حماقتوں کا کوئی علاج نہیں ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو سب سے خسارے میں ہے کہ دنیا میں کھو کر سمجھ رہا ہے کہ وہ خوب کر رہا ہے۔
3۔میانہ رو لوگ:
تیسرا گروہ ’اُمت وسط‘ ہے یعنی وہ ’محمدی‘ لوگ ہیں جن کا دین محمدی ہے، یہ خاصانِ خدا نائب رسول کی حیثیت سے قیامت تک لوگوں پر حکمرانی کریں گے۔
ان کا کام یہ ہوگا کہ وہ رفاہِ عامہ کے لیے مال خرچ کریں۔ خلقِ خدا کو نفع پہنچائیں۔ اگر وہ صاحبِ اقتدار ہوں تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ملک وملت کی اصلاح کریں، اقامتِ دین کے لیے کوشاں رہیں، اور ان کو دنیا کو تھامنے کی کوشش کریں جو عوام کے دین اور عفتِ نفس کے لیے ضروری ہے۔ لہٰذا چاہیے کہ اس سے زیادہ حرص نہ کریں، جس کے وہ مستحق نہیں، نیز تقویٰ اور احسان دونوں صفات اپنے اندر جمع کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی معیت ان کو حاصل ہوتی ہے جو متقی ہیں اور پورے حضورِ قلب کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔
(السیاسۃ الشرعیۃ فی اصلاح الراعی والرعیۃ، مطبع خیریہ )