راجستھان میں مائی لارڈ کہنے پر پابندی

79

بھارتی ریاست راجستھان کی عدالت عالیہ نے ججوں کو مائی لارڈ کہہ کر مخاطب کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ راجستھان ہائی کورٹ کے فل کورٹ اجلاس میں یہ فیصلہ ہوا اس کی بنیاد آئین میں مساوات کا اصول ہے۔ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ بھارتی عدالت میں ایسا فیصلہ کیا گیا یہ فیصلہ پاکستانی عدالتیں کب کریں گی اس کا کسی کو علم نہیں۔ جب کہ مساوات کے حوالے سے تو پاکستان کو یہ کام بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تو مساوات ویسے بھی نافذ ہونا چاہیے تھی۔ لیکن راجستھان ہائی کورٹ کے فیصلے سے بھارتی آئین کی پاسداری یا اس کے احترام کا صرف ایک پہلو واضح ہوتا ہے۔ بھارتی ریاستوں میں اقلیتوں کو بھارتی شہری ہونے کے اعتبار سے مساوی حقوق حاصل نہیں اور ان سے مساوی سلوک نہیں ہوتا۔ ان اقلیتوں میں مسلمان سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ اور مسلمان ہی کیا بھارت میں ہندوئوں کے اعلیٰ ذات کے برہمن تو ہر طرح کی مراعات کے مزے لے رہے ہیں لیکن نچلی ذات کے ہندوئوں کی حالت خراب ہے۔ اگر بھارتی آئین کی مساوات کی شق کا احترام راجستھان ہائیکورٹ نے کر ہی لیا ہے تو مساوات کے دائرے کو کشمیر اور خالصتان تک پھیلایا جائے۔ ہندوستان کے تمام ہی شہری مساوات کے حقدار ہیں۔ کچھ کو مراعات اور کچھ کو پیلٹ گن کا شکار کرنا تو مساوات نہیں۔