حافظ سعید کی گرفتاری، فیصلہ کسی اور کا ہے

166

پاکستان نے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو ایک مرتبہ پھر سے گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا ہے ۔ انسداد دہشت گردی کے ادارے کے مطابق حافظ سعید کو دہشتگردی کی مالی معاونت کے کیس میں گرفتار کیا گیا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکا سے چند روز قبل حافظ سعید کی گرفتاری بہت سے سوالات لیے ہوئے ہے ۔حافظ سعید کی گرفتاری پر جس طرح امریکا اور بھارت نے ردعمل کا اظہار کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ محض پاکستان کا اپنا فیصلہ نہیں ہے بلکہ یہ امریکی ، بھارتی اور اسرائیلی خواہش تھی جس پروزیرا عظم عمران خان کے دورہ امریکا سے قبل عمل کیا گیا ہے ۔ امریکی صدر ٹرمپ نے حافظ سعید کی گرفتاری پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ روپوش حافظ سعید کی گرفتاری ان کے دو سالہ دباؤ کا نتیجہ ہے ۔ جبکہ امریکی قائم مقام نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز اور بھارتی حکومت نے ڈو مور کا مطالبہ بھی کردیا ہے ۔ آخر پاکستان کب تک بھارت، امریکا اور اسرائیلی ٹرائیکا کے دباؤ میں رہے گا اور ان کی فرمائشیں پوری کرتا رہے گا ۔ یہ درست ہے کہ کسی بھی پاکستانی فرمانروا کے لیے امریکی دورہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے مگر اس کی اہمیت اسی وقت ہے جب اس دورے کے نتیجے میں پاکستان کو کچھ حاصل ہو ۔ اگر یہ دورہ اس مقصد کے لیے ہے کہ جا کر امریکی صدر کو فرشی سلام کیے جائیں اور مزید احکامات وصول کرکے ان پر فوری عملدرآمد کی یقین دہانی کروائی جائے تو پھر ایسے دوروں سے احتراز ہی بہتر ہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے اس دورے میں امریکی ایجنٹ شکیل آفریدی کو امریکا کے حوالے کرنے اور پاکستان میں قادیانیوں کو مزید رعایتیں دینے کی یقین دہانی کرواکر آئیں ۔ اس امر کا بھی اندیشہ ہے کہ ملاقات کے دوران پاکستان کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ ہی زیر بحث نہیں آئے گا تاہم باہر نکل کر یہ ضرور کہا جائے گا کہ ڈاکٹر عافیہ کے موضوع پر گفتگو ہوئی ہے اور اس ضمن میں قوم جلدہی خوشخبری سنے گی ۔ اس سے قبل بھی سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کی رہائی کا مژدہ سنایا گیا تھا تاہم بعد میں پتا چلا کہ اس معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ۔ پاکستان نے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکا کو کامیاب بنانے کے لیے حافظ سعید کی گرفتاری کی ہے ۔ بہتر ہوتا کہ اس ضمن میںپاکستان میرٹ پر کام کرے ۔ اگر حافظ سعید واقعی مجرم ہیں تو انہیں عدالتی کارروائی کا موقع دیا جائے اور اگر وہ مجرم نہیں ہیں تو بھارتی اور اسرائیلی خواہش میں اپنے ہی ایک شہری کو یوں سزا نہ دی جائے ۔ پاکستان کی کسی عدالت نے انہیں مجرم قرار نہیں دیا۔ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جو پاکستان کے ہیروہیں وہ بھارت کے دشمن ہیں ۔ پاکستانیوں کے ہیرو ایم ایم عالم اور ڈاکٹر عبدالقدیر ہیں مگر وہ بھارتیوں کے ولن ہیں ۔ دشمن کی بھبکیوں میں آکر اپنے ہیروز کے ساتھ برا سلوک کرنا کہیں سے بھی زندہ قوموں کی نشانی نہیں ہے ۔