خاص و آم

149

عنایت علی خان

عنوان میں چوں کہ محاورے میں تصرف ہوا ہے اس لیے پہلے اس تصرف کی توجیہ ضروری ہے۔ سب لوگ جانتے ہیں کہ یہ موسم کوئی عام موسم نہیں بلکہ موسم آم ہے۔ وہی موسم جس کے بارے میں علامہ اقبالؒ نے اکبر الٰہ آبادی کو یہ تلقین کی تھی کہ:
وعدہ نہ کوئی دید کا پیغام بھیجیے
اس فصل میں جو بھیجیے تو آم بھیجیے
تو یہ ہوئی توجیہ ’’ع‘‘ حذف کرنے کی لیکن اصل موضوع تک پہنچنے میں خلافت عباسیہ کا ایک معجز نما واقعہ یاد آگیا ایک نہیں دو ’’ع‘‘ حذف کرنے کا۔ لیجیے اس بیچ کے بیچ پھر ایک ضرب المثل در آئی جو یوں ہے کہ ’’جو پیامن بھائے وہی سہاگن کہلائے‘‘۔ تو خلیفہ ہارون رشید اپنی ایک حبشن باندی کی جانب مُلتفت تھے ساتھ ہی درباری شاعر کو بھی قصیدہ خوانی کے لیے تخلیے ہی میں یاد فرمالیا تھا۔ آپ کہیں گے کہ یہ بھلا درباری شاعر کو یاد فرمانے کا کیا محل تھا تو راقم آپ کے اس سوال کا جواب بھی ایک فارسی کہاوت ہی کے ذریعے دے گا کہ: ’’رموز مملکت خویش خسرواں دانند‘‘ (اپنی سلطنت کے راز خود بادشاہ ہی جانتے ہیں) اگر موقع محل سے تصرف کرنا چاہیں تو ’’خویش‘‘ کی جگہ ’’عشق‘‘ اور ’’خسرواں‘‘ کی جگہ ’’عاشقاں‘‘ کر لیجیے۔ قصہ کوتاہ شاعر نے پورے ادب آداب کے ساتھ قصیدہ سنایا لیکن خلیفہ اُس پیا چاہی حبشن کے سحر میں اس حد تک مبتلا تھے کہ چشم و گوش کو اس پر مرکوز رکھا اور شاعر کی جانب بھولے سے بھی نہ دیکھا نہ قصیدے کا کوئی شعرسنا۔ شاعر تو کہتے ہیں فطرتاً حساس ہوتے ہیں چناںچہ قصیدہ خواں محروم التفات بیک بینی و دوگوش وہاں سے رخصت ہوئے لیکن محل سرا کے دروازے پر اپنے دل کا غبار یہ شعر لکھ کر نکالا:
لَقَدَ ضاعَ شعِری علی بابِکَ
کما ضاعَ عقدٌ علیٰ خالِصہ
ہاں راقم یہ لکھنا بھول گیا کہ امیرالمومنین نے خالصہ یعنی حبشن کو ایک نولکھا ہار مرحمت فرمایا تھا جو وہ زیب گلو کیے ہوئے تھی تو اب شعر کا مطلب سمجھیے۔ ’’آپ کی جناب میں میرے اشعار اس طرح ضائع ہوئے جس طرح خالصہ کی گردن میں پڑ کر نولکھا ضائع ہوا‘‘۔ چند ہی لمحوں میں یہ شعر امیرالمومنین تک پہنچ گیا اور اُس نمک حرام شاعر کی فوری طلبی ہوئی۔ شاعر کو اپنے شاعرانہ کمال کا اظہار ہی مطلوب تھا۔ چناںچہ تعمیل حکم میں دوڑا دوڑا آیا، البتہ قصر شاہی میں داخل ہوتے ہوئے کاندھے پر پڑے ہوئے رومال کے پَلُّو سے شعر کے دونوں عینوں کے دائرے مٹادیے (شعر عمداً چاک ہی سے لکھا ہوگا) اب شعر میں دائرے مٹنے پر دونوں مصرعوں میں ضاع (ضائع ہوا) کی جگہ ضاء نظر آرہا تھا اور شعر یہ معنی دے رہا تھا ’’آپ کی جناب میں میرے اشعار نے وہ ضیا پائی یعنی روشن ہوئے جس طرح خالصہ کے گلے میں پڑ کر نولکھا ہار روشن ہوگیا تھا۔ گو یہ رمز رموز مملکت نہ تھا لیکن رمز شناس خلیفہ ہارون رشید نے خالصہ کا صدقہ اُتار کر شاعر کو انعام سے نوازا۔ قصیدہ گو کے اس معجزاتی کمال پر مستزاد کسی باذوق کا تبصرہ تھا عینین(عربی میں عین کے معنی آنکھ کے اور کیا عجب کے عینک نے اپنا نام یہیں سے پایا ہو) یعنی دو آنکھیں نکل جانے سے شعر اندھا ہونے کے بجائے اور روشن ہوگیا۔
راقم کو اعتراف ہے کہ مذکورہ بالا تحریر اس محفل کی روداد سے عین انحراف ہے جو قارئین کی خدمت میں پیش کرنی تھی۔ لیکن اس انحراف کا ذمے دار بھی خاص کے مقابلے میں عام کے بجائے ع کا حذف ہوجانا تھا۔ تو جناب آم اور غالب کے حوالے سے جتنے لطیفے آپ نے سن رکھے ہیں ان میں سے تو کسی کو نہیں دہرائوں گا۔ غالب کے مداح نواب صاحب لوہارو نے آم کھانے کے لیے لوہارو بلوایا تھا اُسے رودادِ محفل کی تمہید ضرور بنائوں گا۔ ان کا شعر تھا:
سر آغازِ موسم بھی کیا خوب ہے
کہ دلّی سے حضرت لوہارو کو آئیں
آگے دیگر تواضعات کے لالچ کے ساتھ آموں کا خاص طور پر ذکر تھا لیکن غالباً غالب کے دلّی ہی کے رہائشی مداحوں سے ’’میٹھے اور بہت‘‘ مل جاتے ہوں گے، جواب میں نواب صاحب مذکور کو قطع لکھ بھیجا کہ:
سر آغازِ موسم میں اندھے ہیں ہم
کہ دلّی کو چھوڑیں لوہارو کو آئیں
لیکن خاص محفل آم کا ذکر مطلوب ہے اس میں تو میزبان کے برادران و اعزہ واحباب کے ساتھ وہ افراد بھی تھے جن کا شعری شغف آزمودہ تھا یہاں تک کہ معروف شاعر عاصی اختر تو آموں کے مخزن میرپور خاص تک سے کھینچے چلے آئے تھے۔ تو جناب میزبان تھے سوداگرانِ دلّی کی معروف شخصیت اور برادری کے معتبر ماہنامے سوداگر کے دیرینہ مدیر جناب محمد اقبال راجا لوہیا صاحب۔ جن کے ہاں ہر سال دعوتِ آم کے نام سے دعوتِ خاص منعقد ہوتی ہے۔ دیگر مہمانوں کے علاوہ اس محفل میں خازن اشعار جناب پروفیسر محسن بھی رونق افروز تھے۔ جن کے ہوتے ہوئے کسی اور خوش ذوق کی ضرورت نہیں ہوتی۔
نمازِ عشا کے بعد نہایت پُرتکلف دعوتِ طعام ہوئی اور پھر حسبِ توفیق آم خوری ہوئی، آم ٹھنڈے بھی تھے بہت بھی تھے اور کثرت خاص الخاص قسم انورٹول کی تھی جو سامنے ہو تو پیٹ بھرنے کے باوجود نیت نہیں بھرتی۔ اُس کے بعد جملہ مہمانان دوبارہ وسیع و عریض ڈرائنگ روم میں آکر براجمان ہوگئے جہاں مہمانوں کی کثرت کے سبب گھر کے خوردگان کے لیے مشکل سے جگہ نکل سکی۔ شعری محفل اس اعتبار سے منفرد تھی کہ آٹے میں نمک کی مقدار میں شعرا کے علاوہ (اور وہ بھی مزاح گو جو عربی کے اس مقولے پر پورے اُترتے ہیں کہ المزاحُ فی الکلام کالمح فی الطعام۔ کلام میں مزاح کی وہی حیثیت ہوتی ہے جو طعام میں نمک کی اور اس اتراہٹ میں بھول جاتے ہیں کہ نمک اگر زیادہ ہوجائے تو کھانے والے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔
جس انفرادیت کا اوپر ذکر ہوا اس کی نوعیت یہ تھی کہ وہ حضرات جو موزوں طبع نہیں تھے لیکن خوش ذوق تھے انہوں نے اپنا پسندیدہ کلام نذر سامعین کیا تھا، بعض نے زبانی اور بعض نے موبائل سے پڑھ کر زبانی لیں تو پروفیسر محسن صاحب کا کوئی مدمقابل کیسے ہوسکتا تھا کہ وہ مہمان خصوصی تھے۔ بہرحال پروفیسر صلاح الدین جمالی نے رحمان کیانی صاحب کا نعتیہ کلام انہی کے انداز میں سنایا۔ میزبان نے خود شاعر ہوتے ہوئے ابوالاثر حفیظ جالندھری کی مشہور نظم رقاصہ سنائی۔ راقم الحروف نے فرمائش پر دو تین اپنی غزلیں اور دو قابل اجمیری مرحوم کی پیش کیں۔ عاصی اختر صاحب نے غزلیں اور قطعات سے محفل کو گرمایا لیکن جو واہ واہ پروفیسر محسن صاحب اور بعض موبائل بردار شعرا کو منتخب اشعار پر ملی وہ شعرا کے اپنے کلام پر میسر آئی۔ محفل اس قدر دلچسپ تھی کہ وقت گزرنے کا احساس حضرات کو اس وقت ہوا جب راقم الحروف نے میزبان کو یاد دلایا کہ اس کا سفر لمبا ہے، یعنی ملیر زون میں ماڈل کالونی سے بھی آگے سواتی سوسائٹی میں جانا ہے جس کے لیے ٹیکسی والا بھی منتظر ہوگا۔ راقم نے اختتام پر تجویز دی کہ اختتام دعا پر ہو تو جو بولے وہی کنڈا کھولے کے مصداق یہ فریضہ راقم ہی کے سپرد ہوا اور رات کے تقریباً ساڑھے بارہ بجے یہ دعوت خاصِ آم تکمیل پزیر ہوئی اب جو زندہ رہے گا وہ اگلے سال پھر اس محفل سے لطف اندوز ہوگا اور رہا جو زندہ تو ہر سال بندہ حاضر ہے۔ جو چل بسے تو یہ اس کا سلام آخر ہے۔