تحریکات اسلامی ،غلط فہمیاں دور کریں

131

ابن جوزی

یہ جسارت ہے اس لیے ہر بات پر لکھنا اچھا نہیں لگتا لیکن کبھی کبھی بعض لکھاری کہیں دور بیٹھ کر (کبھی حقائق سے دور کبھی ملک سے) ایسی ایسی باتیں لکھ جاتے ہیں کہ قلم برداشتہ لکھنا ہی پڑتا ہے۔ چند ماہ قبل ایک جاوید کی باتوں پر تبصرہ کیا تھا وہ تو اکبر تھے یہ والے انور ہیں، انہوں نے اسلامی تحریکوں کے لیے سبق لکھ مارا… یہ چوں کہ سات سمندر پار بیٹھے ہیں اس لیے بہت سے حقائق سے بھی دور ہیں۔ اتنے فاصلے سے تو اسلامی قوانین نعوذ باللہ حیوانی قوانین لگتے ہیں۔ قادیانیوں کو مسلمان بھی سمجھا جاتا ہے اور بہت کچھ لیکن جو لوگ اسلامی تحریکات کے بارے میں قلم اٹھاتے ہیں ان کے علم، اسلامی تحریک سے متعلق ان کی تحقیق اور ان تحریکات سے گہرا تعلق اور عملی میدان میں تحریکات کا کارکن یاان کا ہمسفر ہونا بہت ضروری ہے۔ وہ حقیقی مسائل سے بھی واقف ہوتے ہیں اور ان کا بامقصد حل بھی تجویز کرسکتے ہیں۔ پہلا مسئلہ تو یہ ہے کہ جاوید انور صاحب بہت دورہیں (ہر دو طرح سے) ۔اس لیے اسلامی تحریکات کو جس عینک سے دیکھتے ہیں اس سے وہ ایسی ہی نظر آتی ہیں جیسی انہوں نے سمجھی ہیں۔ ان کے مورخہ 16 جولائی کے مضمون کے نصف سے زیادہ حصے میں تو اسلامی عقائد اور مغربی عقائد کا موازنہ تھا جو بالاتفاق امت کا عقیدہ ہے اور یہ اسلامی تحریکات کے بارے میں بنیادی کتب کے مطالعے سے اخذ کیا جاسکتا ہے۔ باقی حصے میں مغربی عقائد سے ارتداد اور اس کی مغرب کی جانب سے سزائوں کا ذکر ہے۔ اس پر بھی کوئی اختلاف نہیں اور اسلامی تحریکوں کو فوج کے ذریعے کچلنے پر بھی کوئی اختلاف نہیں لیکن اسلامی تحریکوں کے مغربی سازشوں اور حملوںسے ناواقف ہونے کا الزام ایسا ہے جس کی گرفت بھی ہونی چاہیے اور یہ دعویٰ کرنے والے یا الزام لگانے والے سے باز پرس بھی ہونی چاہیے کہ جناب کی اپنی کیفیت کیا ہے۔
زیر بحث مضمون میں وہ پہلے تو لکھ رہے ہیں کہ اخوان کے صدارتی امیدوار محمد خیرت سعد الشاعر تھے لیکن اخوان نے محمد مرسی کو متبادل امیدوار کے طور پر پیش کیا۔ اخوان کو خدشہ تھا کہ خیرت سعد الشاعر کو انتخاب سے روک دیا جائے گا۔ آگے چل کر موصوف محمد مرسی کے بارے میں تبصرہ بلکہ طنز فرما رہے ہیں کہ ’’محمد مرسی فوج، عدلیہ اور میڈیا میں کوئی بنیادی تبدیلی لائے بغیر، فلسطینیوں کے جہاد میں شامل ہوئے، عالم اسلام کو متحد کرنے اور علما کانفرنس کے ذریعے ساری دنیا میں اسلامی احیا کا عزم کررہے تھے۔ انہیں احساس ہی نہیں ہوا (یا انہوں نے نظر انداز کردیا کہ) ان کی فوج سامراجی نظام کی نمائندہ اور نگران ہے‘‘۔ یہاں رک کر سوچیں کہ جو لوگ صدارتی انتخابات سے قبل یہ شعور رکھتے تھے کہ سامراجی نظام کے محافظ الشاعر کو انتخاب سے روک دیں گے اس لیے انہوں نے متبادل تیار کر رکھا تھا انہیں بعد میں ’’احساس ہی نہیں ہوا‘‘ کہ ان کی فوج سامراج کی نمائندہ اور اس کے نظام کی نگراں ہے۔ ارے بھائی جن لوگوں کے خدشات کے عین مطابق الشاعر کو انتخاب سے روکا گیا ان کے بارے میں یہ کہنا حقائق سے ناواقفیت ہے یا اسلامی تحریکات میں تفرقہ پھیلانے کی کوشش۔ مزید بد تہذیبی یہ ہوئی کہ موصوف نے مرسی پر یہ طنز کیا کہ وہ علما کانفرنس کے ذریعے ساری دنیا میں اسلامی احیا کا عزم کررہے تھے۔ کیا معنی ہیں اس طنز کے۔ اسلامی احیا تو تجارت سے بھی ہوسکتا ہے اور سفیروں کے دوروں سے بھی، رستم کے سامنے حضرت ربعی بن عامر کے خطبے سے بھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر رب کی غلامی میں دینے آئے ہیں۔ اس آزادی کا ذکر جاوید انور صاحب نے اپنے مضمون کی ابتدا اور درمیان میں کیا ہے۔ موصوف کے پورے مضمون کی جان وہی پیرا گراف ہے جس میں انہوں نے محمد مرسی کے بارے میں طنز کیے ہیں ورنہ باقی ساری باتوں کو دنیا کی ہر اسلامی تحریک کا ادنیٰ کارکن بھی جانتا ہے۔
یہ اسلامی تحریکات کی خوش نصیبی ہے یا کچھ اور کہ ان کی اصلاح ان کے لیے سبق اور ان کی غلطیوں کی نشاندہی کے لیے جاوید ہی اُٹھتے ہیں اکبر ہو یا انور۔ اب اس مبینہ سبق پر بھی بات کرلیتے ہیں۔ اس مضمون کا سبق تو یہ ہے کہ ’’اگر کسی طرح اسلامی تحریک (روکنے کی تمام تدابیر کے باوجود) منتخب ہو کر آگئی تو فوج بزور قوت اسے ہٹادے گی۔ تحریکات اسلامی کو یہ بات سمجھنا ضروری ہے‘‘۔ جی ہاں الجزائر سے لے کر مصر تک ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ پاکستان میں بھی تحریک نظام مصطفی کے موقع پر جنرل ضیا الحق آئے تھے تا کہ اس تحریک کا رُخ ضرورت کے مطابق موڑا جاسکے کہیں وہ نظام مصطفی کی جانب پیش قدمی نہ کرنے لگے۔ لیکن جاوید صاحب کا انداز ایسا ہے جیسے وہ کسی کا پیغام دے رہے ہوں کہ تحریکات اسلامی کو یہ بات سمجھنا ضروری ہے۔ یہ رویہ اور افواج کا اقدام یا سبق تو پرانا ہوگیا۔ تازہ ترین سبق اسلامی تحریک کے لیے ترکی میں اردوان کی اپیل پر عوام کا سڑکوں پر نکل آنا ہے۔ جاوید صاحب کے سبق میں مایوسی ہے اور ترکی والے سبق میں اُمید ہے۔ یہ بھی سمجھ لیں کہ فوج کہیں کی بھی ہو کسی کی نگراں ہو اسے اپنی عزت پیاری ہوتی ہے، وہ کبھی عوام کے سامنے نہیں کھڑی ہوتی راستہ دے دیتی ہے۔ ترکی میں یہی ہوا۔ جب کہ ترک فوج اسلام اور اسلامی تحریکات کے خلاف 1922 سے اقدامات کرتی چلی آرہی تھی لیکن اردوان اور اسلامی تحڑیک نے اس کے پر قینچ دیے۔ لہٰذا مایوسی کاسبق دینے کے بجائے اُمید کی روشنی دکھائیں۔ پھر غور کریں افواج کی مداخلت پرانا سبق تھا اب ترکی میں عوام کا نکل آنا نیا سبق ہے۔ یہی سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ بھی کرلیا جائے۔ اس طرح کے لکھاری ایسی مایوسی کی باتیں اس لیے کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک کامیابی کا پیمانہ جمہوریت میں کامیابی ہے۔ 24، 44 یا 74 نشستیں ہیں، حکومت سازی ہے… نہیں… کامیابی ہرگز یہ نہیں ہے، اسلامی تحریکات کے تمام کارکن اور رہنما دہاڑی کے مزدور ہیں، اپنی مزدوری کرو اور اللہ سے اجر پائو۔ عمارت کی تعمیر کب کیسے اور کون کرے گا یہ اس معمار اعظم پر چھوڑ دو جو نمرود کو مچھر سے مارتا ہے اور ہاتھیوں کو کنکریوں سے، جو قلیل گروہ سے کثیر کو شکست دلواتا ہے اور اندھے کنویں سے نکال کر حضرت یوسفؑ کو اقتدار پر متمکن کرتا ہے۔ ان میں سے کسی نے اس کی تمنا نہیں کی تھی یہ سب اللہ کی رضا کے لیے سر میں سودا سمائے نکلتے تھے۔ بس یہ غلط فہمی ختم ہوجائے تو 1970ء کی چار نشستیں فتح اور 2002ء کی 68 نشستیں ناکا فی نظر آئیں گی۔ اور خدا کے واسطے واٹس اپ اور فیس بک کے مجاہدو… باز آجائو گھر سے قدم نکالو… یہ انگوٹھوں سے کب تک جنگ کرتے رہو گے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلامی تحریکات یہ خوب جانتی ہیں کہ
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شراربو لہبی