قال اللہ تعالی و قال رسول اللہ

67

جس سر و سامان اور لاؤ لشکر کا یہ ذکر کر رہا ہے وہ سب ہمارے پاس رہ جائے گا اور یہ اکیلا ہمارے سامنے حاضر ہوگا۔ اِن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے کچھ خدا بنا رکھے ہیں تاکہ وہ اِن کے پشتیبان ہوں۔ کوئی پشتیبان نہ ہوگا وہ سب ان کی عبادت کا انکار کریں گے اور الٹے اِن کے مخالف بن جائیں گے۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ ہم نے اِن منکرین حق پر شیاطین چھوڑ رکھے ہیں جو اِنہیں خْوب خْوب (مخالفتِ حق پر) اکسا رہے ہیں؟۔ اچھا، تو اب اِن پر نزول عذاب کے لیے بیتاب نہ ہو ہم اِن کے دن گن رہے ہیں۔ وہ دن آنے والا ہے جب متقی لوگوں کو ہم مہمانوں کی طرح رحمان کے حضور پیش کریں گے۔ اور مجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے۔ (سورۃ مریم:80تا 86)

سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں، ایک عورت اپنی دو بچیوں کو لیکر مانگتی ہوئی آئی، میرے پاس ایک کھجورکے سوا اس وقت کچھ نہ تھا، میں نے وہی دیدی۔ وہ کھجور اس نے اپنی دونوں بچیوں میں تقسیم کردی اور خود نہ کھائی پھر اٹھ کرچل دی۔
نبی کریمؐ تشریف لائے تو میں نے آپؐ سے اس کا حال بیان کیا۔
فرمایا جس نے ان بچیوں کی وجہ سے خود کو معمولی سی بھی تکلیف میں ڈالا، تو یہ بچیاں اس کے لیے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔
(بخاری)