بلجیم میں امریکی جوہری ہتھیاروں کی موجودگی پر تنازع

98

برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) بلجیم میں امریکی جوہری ہتھیاروں کی موجودگی سے متعلق انکشاف کے بعد حزب اختلاف کی سیاسی شخصیات نے حکومت سے جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ انکشاف انٹرنیٹ پر جاری ہونے والی ایک دستاویز کے ذریعے سامنے آیا۔ نیٹو اتحاد کی پارلیمانی اسمبلی میں سیکورٹی اینڈ ڈیفنس کمیٹی کی ایک رپورٹ کے مسودے میں یورپ اور ترکی میں 6 فضائی اڈوں کے حوالے سے تفصیلات شامل ہیں۔ ان اڈوں پر امریکا نے اپنے 150 جوہری ہتھیار بالخصوص بی 61 گریویٹی بم محفوظ کر رکھے ہیں۔ بلجیم کی گرین پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمان صموئیل کوگولاتی نے کہا کہ مذکورہ رپورٹ سے شمالی بلجیم میں کلائن بروگل کے فضائی اڈے میں امریکی جوہری ہتھیاروں کے وجود سے متعلق پھیلے ہوئے راز کی تصدیق ہو گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس سلسلے میں مکمل طور پر شفاف بحث کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہمیں اس جھوٹ کو روکنا ہو گا اور اس منافقت پر روک لگانا ہو گی۔ رواں سال اپریل میں تحریر کی جانے والی رپورٹ کے مسودے کے ایک حصے میں 6فوجی مقامات پر تقریباً 150 جوہری ہتھیاروں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ اڈے بلجیم میں کلائن بروگل، جرمنی میں بوشیل، اطالیہ میں وافیانو اور گیڈی ٹوری، ہالینڈ میں وولکل اور ترکی میں انجرلیک ہیں۔ نیٹو ارکان میں 3 ایٹمی طاقتوں میں برطانیہ اور فرانس کے ساتھ امریکا شامل ہے۔ اگرچہ جوہری خطرہ جوابی حکمت عملی کی پالیسی کا بنیادی حصہ سمجھا جاتا ہے، تاہم نیٹو اتحاد اسے تفصیل سے زیر بحث لانے کو مسترد کرتا ہے۔ نیٹو اتحاد کے ایک ذمے دار نے زور دیا ہے کہ یہ اتحاد کی کوئی سرکاری دستاویز نہیں ہے۔ نیٹو جوہری مسائل پر ہر گز تبصرہ نہیں کرے گا۔ اسی طرح بلجیم کے وزیر دفاع کے ترجمان نے بھی اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔