بجٹ پر مذاکرات کی ناکامی معیشت کے لیے اچھا شگون نہیں، سلیم قریشی

78

حیدرآباد (کامرس ڈیسک) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے سینئر نائب صدر سلیم الدین قریشی نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی اور تاجر و صنعتکاروں کے نمائندوں کے درمیان ٹیکسوں میں کمی کی بات چیت میں ناکامی کو ملکی معیشت کی ناکامی قرار دیا ہے جس کے دورس نتائج برآمد ہوں گے جو کوئی اچھا شگون نہیں اور معاشی بربادی کے علاوہ مستقبل میں کسی اچھے اور سودمند ماحول کی نفی کرتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں 50 فیصد سے زائد کمی نے صنعتی لاگت کو دُگنا کردیا ہے اور لوگ اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور کردیے گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے 35 فیصد ٹیکسوں کے اضافے سے 1550 اَرب کے ٹیکس نیٹ میں اضافہ، اکائونٹس ہولڈرز کی بایومیٹرک بینکوں کی جانب سے تصدیق کے باوجود شناختی کارڈ کی شرط مزید پیچیدگیوں کا باعث بن رہا ہے۔ آئے دن بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ اور آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کرتے ہوئے اسٹیک ہولڈرز کو نظر انداز کرنے سے معاشی حالات دُرست ہونے کے بجائے خرابی کا پتہ دیتے ہیں جس کا ملک و قوم اور حکومت کو بے پناہ نقصان کے سواء کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ آئی ایم ایف کی سخت ترین شرائط سے تاجر و صنعتکار خوف زدہ ہیں اور معیشت غیر مستحکم ہورہی ہے، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دے گا جس کے اِشارے مل رہے ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں کم ہونے کے باوجود روپے کی بے قدری اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کی نوید سُنادی جاتی ہے، حکومتی پالیسی جو غربت مٹانے کا دعویٰ لے کر آئی تھی غریب کو غریب تر کرنے کی دانستہ یا دانستہ مرتکب ہورہی ہے اور معاشی عدم استحکام پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے چُکا ہے۔