عدالتی حکم کے باوجود مہتاب کالونی گرانے کی کوشش دہشتگردی ہے‘حافظ نعیم

98

کراچی (اسٹاف رپورٹر))جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے عدالت عظمیٰ کے حکم کی آڑ میں قیام پاکستان کے وقت سے قائم سولجر بازار میں واقع مہتاب کالونی گرانے اور زمین پر قبضہ کرنے کی کوششوں کی شدید مذمت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سولجر بازارمیں ہنومان مندر سے متصل مہتاب کالونی قیام پاکستان کے وقت سے قائم ہے لیکن مندر کے پجاری ایک ہندو رکن اسمبلی ، ڈپٹی کمشنر ایسٹ اور سولجر بازار پولیس کی مدد سے مسلسل اس آبادی کو خالی کراکے زمینوں پر قبضے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آبادی طویل عرصے قبل کے ایم سی نے لیز کر دی تھی اور جب مکینوں کو جبری بے دخل کرنے کی کوشش کی گئی تو آبادی کے کچھ لوگوں نے عدالتوں سے رجوع کیا اور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست داخل کردی لیکن اس کے باوجود ان لوگوں کو کمشنر کراچی ،ڈپٹی کمشنر ایسٹ اور مختار کار کے دفتر بلا کر مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی رکن اسمبلی رمیش کمار کا دبائو ہے کہ زمین خالی کرائو ہم یہاں گریٹ مندر بنائیں گے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہ لوگ مسلسل عدالت عظمیٰ کے حکم کا ذکر کرتے ہیں لیکن آج تک دکھایا نہیں کہ وہ کونسا آرڈر ہے جس میں اس آبادی کو ڈھانے کا ذکر کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات بھی اسسٹنٹ کمشنر ایسٹ اور پولیس کے اہلکار بلڈوزر لے کر وہاںپہنچ گئے اور مردوں کو گرفتار کر کے تھانے لے گئے اور کہا کہ لکھ کر دو کہ آبادی خود خالی کر دو گے لیکن جب ان لوگوں نے انکار کیا تو ان کو دہشت گردی کے مقدمات میں گرفتار کر لیا ۔ جس پر آبادی کے اندر شدید ردِ عمل اور اشتعال موجود ہے اور علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قانون کے رکھوالوں کی یہ دہشت گردی نا قابل ِ برداشت ہے ۔ ہندو رکن اسمبلی اور مندر کے پجاری کو خوش کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر اور ان کا عملہ تمام قانونی ، انسانی اور اخلاقی حدود پار کر رہا ہے ۔ جماعت اسلامی ان مظلوم لوگوں کا ہر قیمت پر ساتھ دے گی۔