آبنائے ہرمز میں اماراتی تیل بردار جہاز لاپتا

325
آبنائے ہرمزمیں لاپتا ہونے والے تیل بردار جہاز کی فائل فوٹو
آبنائے ہرمزمیں لاپتا ہونے والے تیل بردار جہاز کی فائل فوٹو

ابوظبی (انٹرنیشنل ڈیسک) خلیج فارس کی آبنائے ہرمز میں ایک تیل بردار جہاز غائب ہوگیا۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے منگل کے روز اپنی رپورٹ میں کہا کہ متحدہ عرب امارات کا ایک تیل بردار جہاز 2 روز قبل آبنائے ہرمز عبور کرتے ہوئے لاپتا ہوگیا، جس کا تاحال پتا نہیں چلایا جاسکا۔ تاہم اماراتی حکام نے اس جہاز کے اپنی ملکیت میں ہونے کی تردید کی ہے۔ جہاز آخری بار آبنائے ہرمز سے ایرانی سمندر کی حدود میں جاتے دیکھا گیا، جس کے بعد اس کی موجودگی کا مقام ظاہر ہونا بند ہوگیا۔ تیل بردار جہاز کا مقام آخری بار ہفتے کی رات 11 بجے ایرانی سمندر کی حدود سے موصول ہوا۔ اے پی کے مطابق یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ جہاز کے ساتھ ہفتے کی رات کیا واقعہ پیش آیا۔ جہازوں کا ڈیٹا مرتب کرنے والی ایک کمپنی سے تعلق رکھنے والے کیپٹن رنجیت راجہ نے اے پی کو بتایا کہ آئل ٹینکر نے گزشتہ 3 ماہ سے اپنا راستہ تبدیل نہیں کیا، اس لیے کہیں نہ کہیں کچھ خطرہ ہے۔ اس جہاز کا نام ریاہ ہے، جس پر پاناما کا جھنڈا لگا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس جہاز نے امارات کی مشرقی ساحل الفجیرہ جانے کے لیے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے قبل دبئی اور شارجہ کے درمیان اپنے معلوم کے سفر کیے۔ جہاز کے مالک ادارے نے اے پی کو بتایا کہ اس نے جہاز موج البحر نامی کمپنی کو فروخت کردیا ہے۔ لیکن جب اس کمپنی کے رجسٹرڈ نمبر پر بات کی گئی تو کمپنی کے نمایندے نے کسی جہاز کو خریدنے کی تردید کی۔ دوسری جانب امارات کی سرکاری نیوز ایجنسی نے مقامی عہدے دار کے حوالے سے بتایا کہ لاپتا ہونے والا جہاز امارات کی ملکیت ہے نہ اس پر اماراتی عملہ موجود ہے۔ جب کہ ایک امریکی عہدے دار نے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو شک ہے کہ اس جہاز پر ایران نے قبضہ کرلیا ہے۔ دوسری جانب برطانوی اخبار ڈیلی مرر نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کے روز بحیرۂ احمر کی طرف جانے والے برطانوی جنگی جہاز ایچ ایم ایس ڈنکن45 کو مبینہ طور پر ایران کی ایک بمبار کشتی نے روکنے کی کوشش کی تھی۔ اخبار کے مطابق جب برطانوی جہاز پر موجود عملے کو علم ہوا کہ بحیرۂ احمر میں بارود سے لدی ایرانی کشتی موجود ہے، تو جہاز کی سیکورٹی سخت کر دی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ایران کی بارود سے لدی کشتی کو ریموٹ کنٹرول کی مدد سے تباہ کیا جانا تھا۔