چیف سلیکٹر انضمام الحق کا عہدے سے سبکدوش ہونے کا اعلان

168

قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے سلیکشن کمیٹی سے الگ ہونے کا اعلان کردیا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے کہا کہ میں اس ذمہ داری سے سبکدوش ہونا چاہتا ہوں، 30جولائی کے بعد مزید ذمہ داریاں نہیں نبھاؤں گا جب کہ میں اپنی ٹیم کا شکریہ اداکرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے سلیکشن کے تین سال مکمل کیے، پاکستان کرکٹ بورڈ نے مجھے اپنے کام میں فری ہینڈ دیا جس پر میں ان  کا مشکور ہوں، انہوں نے کہا کہ  میں کرکٹر ہوں کرکٹ میرا پیشہ اور میری محبت ہے،اگر کرکٹ بورڈ نے مجھے کوئی مختلف ذمہ داری دی تو میں ضرور دیکھوں گا لیکن سلیکشن کمیٹی کے لیے مزید کام سے معذرت کر چکا ہوں،اب تک کرکٹ بورڈ کی جانب سے کسی عہدے کی پیشکش موصول نہیں ہوئی۔

قومی ٹیم کی ورلڈکپ میں کارکردگی کے حوالے بات کرتے ہوئے انضمام الحق کا کہنا تھا کہ ورلڈکپ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کو بطور کرکٹر بہتر سمجھتاہوں، ہم نے جس طرح آخری 4میچز جیتے وہ سب کے سامنے ہے، جو میں کر سکتا تھا وہ میں نے کیا، فائنل کھیلنے والی دونوں ٹیموں کو پاکستان نے ہرایا، ہماری ٹیم بہت اچھی تھی ، قسمت نے ساتھ نہیں دیا،لیکن ٹورنامنٹ کے آخر میں وکٹیں مشکل ہو گئی تھیں جس کا اعتراف نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیم سن نے بھی کیا۔ماہرین نے پاکستان کو ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیموں میں شامل کیا تھا۔

شعیب ملک سے متعلق سوال پر قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر نے کہا کہ شعیب ملک گزشتہ تین سال سے بہترین پرفارم کر رہا تھا جس کی بنیاد پر انہیں ورلڈکپ کے لیے ٹیم میں شامل کیا گیا، شعیب ملک اچھا کھلاڑی ہے لیکن بدقسمتی سے ورلڈکپ میں پرفارم نہیں کر سکا، اگر وہ اچھا کھلاڑی نہ ہوتا تو پاکستان کے لیے 19سال نہ کھیلتا۔

چیف سلیکٹر نے کہا کہ پاکستان ٹی 20میں گزشتہ ایک سال سے نمبر ون ہے اور 2016سے اب تک 15نوجوان کھلاڑی تینوں فارمیٹ میں کھیل رہے ہیں اور یہ کھلاڑی کئی سالوں تک پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

امام الحق سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کا تعلق رشتہ داری سے نہیں کارکردگی سے ہوتا ہے اور امام الحق نے اچھی کارکردگی دکھائی، میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ پہلا پاکستانی اوپنر ہے جس کا رن اوسط اتنے میچز کھیلنے کے باوجود 50سے زائد ہے،ہیڈ کوچ اور بیٹنگ کوچ نے کہا کہ امام الحق سلیکٹ ہونا چاہیے جب کہ امام الحق انڈر 19کی ٹیم میں 2012سے تھا اور وہ انڈر 19کا نائب کپتان بھی تھا، اس وقت میں چیف سلیکٹر نہیں تھا۔

ورلڈکپ میں رن ریٹ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انضمام الحق کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس رن ریٹ کا اندازہ لگانے کا میٹر نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ رن ریٹ ٹیم اور انتظامیہ کے ذہن میں تھی اور کوشش بھی کی گئی، تاہم وکٹیں مشکل ہونے کی وجہ سے یہ اہداف حاصل کرنا مشکل ہوگئے۔

تجربہ کار شعیب ملک اور محمد حفیظ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انضمام الحق کا کہنا تھا کہ ان کے مستقبل کا فیصلہ نئی سیلکشن کمیٹی کرے گی۔ورلڈکپ میں دیگر کھلاڑیوں کو موقع نہ دینے کے سوال پر جواب میں انضمام الحق کا کہنا تھا کہ جن کھلاڑیوں کو ورلڈکپ کے دوران میچ نہیں کھیلا گیا ان سے معافی مانگتا ہوں، میرے فیصلے پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے تھے جو غلط بھی ہوسکتے ہیں۔

یاد رہے کہ 3 سال قبل انضمام الحق کو قومی سلیکشن کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا، ان کے دور میں پاکستان کی ٹیسٹ اور ون ڈے میں کارکردگی اچھی نہیں رہی اور ان کی سلیکشن اور جانب داری پر سابق ٹیسٹ کرکٹرز بارہا سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔انضمام الحق کی بطور چیف سلیکٹر عہدے کی معیاد اپریل میں ختم ہو گئی تھی لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کی معیاد میں ورلڈ کپ تک توسیع کر دی تھی۔