ورلڈ کپ فائنل کا نتیجہ شرمناک، اب تک اپنے جذبات سے مقابلہ کر رہا ہوں،کین ولیمسن

160

نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان کین ولیم سن نے ورلڈ کپ فائنل کے نتیجے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فائنل میچ کے بے مثال نتیجے کے بعد سے وہ اب تک اپنے جذبات سے مقابلہ کر رہے ہیں۔

لندن میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئےکین ولیمسن نے کہا کہ ان کو اور ان کی ٹیم کو ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں پیدا ہونے والی صورتحال کو پوری طرح سمجھنے میں کچھ وقت لگے گا۔انہوں نے کہا کہ دو مہینے مختلف ٹیموں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے بعد ان کی ٹیم فائنل میں پہنچی اور اس کے بعد اسکور ٹائی ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ بہت ہی عجیب احساس ہے کہ کسی بھی(ٹیم)نے میچ نہیں ہارا لیکن اس کے باوجود جیت کا سہرا ایک ٹیم کے سر پر سجا۔

ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی جیت اور نیوزی لینڈ کی ہار پر آئی سی سی کے سپر اوور کے حوالے سے قوانین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ناقدین کے خیال میں ٹرافی صرف انگلینڈ کو ملنے کے بجائے نیوزی لینڈ کو بھی مشترکہ فاتح قرار دینا چاہیے تھا۔چند ناقدین کے خیال میں ٹرافی کی اصل حقدار نیوزی لینڈ کی ٹیم تھی، کیونکہ انہوں نے سب سے کم وکٹیں کھوئی تھیں۔ نیوزی لینڈ ٹیم کے کوچ گیری سٹیڈ نے بھی آئی سی سی کو اپنے قوانین کا جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ولیمسن کا کہنا تھا کہ ہار اور جیت کے درمیان بہت ہی باریک لکیر تھی اورایسی صورتحال میں بہت کچھ آپ کے قابو سے باہر ہوتا ہے اور حالات ایسا رخ اختیار کر جاتے ہیں جو (اس دن) ہوا۔انہوں نے ورلڈ کپ کے نتیجے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دو مرتبہ کی کوششوں کے باوجود میچ ٹائی ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ٹیموں نے سخت مقابلہ کیا اورغیر واضح باریکیوں نے جیت کا فیصلہ کر ڈالا۔ولیمسن نے کہا کہ جس طرح سے ان کی ٹیم کے کھلاڑیوں نے ورلڈ کپ میچز کے دوران کارکردگی دکھائی ہے، اس پر انہیں فخر ہے۔