خیبر پختون خوا میں 18 سال سے کم عمر مسیحی لڑکی کی شادی پر پابندی کا فیصلہ 

114

خیبر پختونخوا حکومت نے مسیحی برادری کی شادی اور طلاق سے متعلق قانونی ترامیم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شوہر کو طلاق کے لیے بیوی پر الزام لگاکر اسے ثابت بھی کرنا ہوگا،بجٹ میں شادی، طلبہ اور بیوا وں کے لیے وضائف رکھے گئے ہیں۔

پشاور میں وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شوکت یوسفزئی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ الخدمت فانڈیشن کی کاوش کو سراہتا اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں، تعلیمی میدان میں الخدمت کے خدمات قابل تحسین ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ صوبائی و ضلعی سطح پر مشائخ کونسل کے قیام کا فیصلہ ہوا ہے، بجٹ میں شادی، طلبہ اور بیوا وں کے لیے وضائف رکھے گئے ہیں، صوبائی کابینہ میں مسیحی شادی ترمیمی بل اور طلاق ترمیمی بل پیش کیے جارہے ہیں اور 18 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی کی عمر پر پابندی لگائی جارہی ہے۔

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ طلاق کے حوالے سے خواتین کو تحفظ دینے کی کوشش کی جارہی ہے، پہلے شوہر کوئی بھی الزام لگاکر بیوی کو طلاق دے کر جان چھڑا لیتا تھا، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا اور شوہر کو طلاق کے لیے بیوی پر الزام لگاکر اسے ثابت بھی کرنا ہوگا۔