کیا محنت کشوں اور دہشت گردوں میں کوئی فرق نہیں

105

شوکت علی چودھری

دہشت گردی کسی بھی معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے۔اس سے نہ صرف معاشرتی اقدار پر زد پڑتی ہے بلکہ یہ عوام الناس کی ذہنی الجھنوں میں اضافہ کا سبب بھی بنتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ معاشرے جہاں دہشت گردی کا ناسور اپنے پنجے گاڑ لے وہاں کی سماجی، معاشی اور ثقافتی زندگی بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستانی معاشرہ پچھلے کئی سالوں سے دہشت گردی جیسی مصیبت کا شکار ہے اور اس دہشت گردی نے نہ صرف ہزاروں لوگوں کی جانیں لی ہیں بلکہ اربوں کی قیمتی جائیدادوں کو بھی تباہ و برباد کیا ہے۔اس دہشت گردی کے سدباب کے لیے قانون نافذکرنے والے اداروں نے بے بہا قربانیاں دی ہیں اور ابھی بھی قربانیاں دینے کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس کے سد باب کے سلسلہ میں پاکستانی حکومتوں نے دہشت گردی کے خاتمے کا قانون بھی بنایا ہے اور دہشت گردی کے مقدمات کی سنوائی کے لیے دہشت گردی کی عدالتیں بھی قائم کی ہیں جہاں دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا قانونی فریضہ سر انجام دیا جاتا ہے۔ یہاں تک تو سب ٹھیک ہے اور ہر پاکستانی شہری حکومت کے ان اقدامات کی حمایت بھی کرتا ہے کہ دہشت گروں کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔لیکن ایک اہم مسئلہ جس کی طرف میں صاحبان اقتدار کی توجہ دلوانا چاہتا ہوں وہ اس قانون کا بے دریغ استعمال ہے کہ جس کہ تحت پولیس کسی بھی شخص خواہ اس کے جرم کی نوعیت بہت معمولی قسم کی ہی کیوں نہ اور اس شخص کی سماجی حیثیت بھی بہت پسماندہ بھی ہو۔ اس پر دہشت گردی کی دفعات لگا کر اس کو گرفتار کر لیتی ہے اور پھر اس شخص کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے کن کن مرحل اور مصیبتوں سے گزرنا پڑتا ہے وہ صرف وہ ہی جان سکتا ہے جس پر یہ سب گزر ی ہو۔میں کوئی قانون کا طالب علم یا قانون دان تو نہیں ہوں کہ اپنی بات کو قانونی مثالوں سے سمجھا سکوں لیکن ایک سیاسی اور سماجی کارکن کی حیثیت سے ایسے معاملات میں عام آدمی پر جو گزرتی ہے اس کی روشنی میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔عید سے ایک روز قبل لاہور کی PEL الیکٹرونکس فیکٹری سے وہاں کی انتظامیہ نے لگ بھگ 40 ملازمین کو جو اس فیکٹری میں کئی کئی سالوں سے کام کر رہے تھے اور ان کو لیبر قانون کے تحت -90 90 روز کے بعد کنفرم ملازمین کا درجہ بھی نہیں دیا گیا تھا۔ان ملازمین کو بغیر کوئی پیشگی نوٹس دیے ان کی ملازمتوں سے فارغ کر دیا۔فیکٹری مالکان کے اس طرز عمل کے رد عمل میں ان ملازمین نے فیکٹری کے گیٹ پر احتجاج کرنا شروع کر دیا جس پر فیکٹری میں موجود دیگر ورکرز نے بھی ان ملازمین کے حق میں ان ورکرز کاساتھ دیا تو فیکٹری مالکان نے فیکٹری کے مرکزی گیٹ کو تالا لگا کر تمام ملازمین کے فیکٹری میں داخلے پر پابندی لگا دی۔ویسے تو یہ ایک غیر قانونی عمل ہے کہ کوئی بھی فیکٹری مالک لیبر کورٹ اور لیبر ڈپارٹمنٹ کی اجازت کے بغیر فیکٹری کی تالا بندی نہیں کر سکتا۔ مالکان نے تین روز تک فیکٹری کی تالا بندی جاری رکھی۔اس دوران فیکٹری مالکان کی درخواست پر پولیس نے ان احتجاج کرنے والے ورکرز کے اوپر دیگر دفعات کے علاوہ دہشت گردی کے قانون کے تحت بھی مقدمات قائم کردیے۔ ابھی وہ تمام ورکرز دہشت گردی کی عدالت سے اپنی اپنی ضمانتیں کروانے کے چکروں میں الجھے ہوے ہیں۔ دہشت گردی کے مقدمات میں ضمانت کا ہونا ایک معجزہ سے کم نہیں ہوتا۔ مجھے صاحبان اقتدار سے عرض یہ کرنا ہے کہ اس پورے واقعہ میں فیکٹری کے اندر یا فیکٹری کے باہر نہ تو کسی قسم کی کوئی توڑ پھوڑ ہوئی اور نہ ہی کسی کو کوئی جسمانی گزند پہنچا۔اپنی روزی روٹی کے خاتمے کا حکم نامہ موصول کرنے والے ان غریب محنت کشوں نے اتنا جرم ضرور کیا کہ فیکٹری کے گیٹ پر صدائے احتجاج ضرور بلند کی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فیکٹری مالکان کے اس غیر قانونی اقدام کے خلاف کہ انہوں نے ان ملازمین کو سالہا سال سے کچے ملازمین کے طور پر ملازمتوں پر رکھا ہوا تھا ان کے خلاف قانون کے مطابق کوئی کارروائی ہوتی پولیس نے ان سولہ ہزار روپے ماہوار تنخواہ لینے والے غریب ورکرز پر دہشت گردی سمیت دیگر بہت سی دفعات کے تحت مقدمات قائم کر دیے۔مجھے اپنے حکمرانوں سے اتنا عر ض کرنا ہے وہ قوانین کے استعمال میں اتنی احتیاط اور رعایت برتنے کے احکامات ضرور صادر کریں کہ دہشت گردوں اور اس ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے والے محنت کشوں میں فرق تو رکھیں۔اگر حکمرانوں کی نظر میں محنت کش اور دہشت گرد میں کوئی فرق نہیں ہے تو پھر ہم سب کا اللہ ہی حافظ ہے۔ایک بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ لیبر کے تمام تر معاملات کو ڈیل کرنے کے لیے الگ سے لیبر قوانین بنائے گے ہیں اور ان کی عدالتیں بھی الگ سے بنائے گئی ہیں کہ دنیا بھر میں لیبر کے قوانین کو ہیومن لاز کہا جاتا ہے نہ کہ ان کو کرمنل لاز کے تحت ڈیل کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے جج صاحبان کا تقرر بھی الگ سے کیا جاتا ہے اور جج صاحبان صرف لیبر سے متعلقہ مقدمات ہی سنتے ہیں۔ پاکستان ان ممالک میں سے جس نے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے سب سے زیادہ قوانین کو تسلیم کرتے ہوئے ان پر دستخط کیے ہوئے ہیں۔ آج کی دنیا جب آپ سے تجارت کرتی ہے تو ان باتوں کا بھی دھیان رکھا جاتا ہے کہ آپ کے یہاں لیبر قوانین پر عمل درآمد ہوتا ہے۔ اگر یہ شکایات موصول ہوں یا ایسے شواہد ملیں گے اس ملک میں لیبر قوانین پر عمل نہیں ہوتا تو بہت ممالک آپ سے تجارت کرنے سے انکار کردیتے ہیں۔ جیسے یورپین یونین نے پاکستان کو 1914 میں دس سال کے لیے جی ایس پی پلس کے تحت ڈیوٹی فری تجارت کی سہولت دی ہوئی ہے لیکن اس میں یہ شرط موجود ہے کہ آپ لیبر قانین پر پوری طرح عمل کریں گے بصورت دیگر آپ سے یہ سہولت واپس لے لی جائے گی۔ سری لنکا سے لیبر قانین پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے یہ سہولت واپس ہو چکی ہے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ لیبر قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے اور محنت کشوں پر ہونے والے ظلم و زیادتی کے نتیجہ میں پاکستان اربوں ڈالر سالانہ کی تجارت ہی سے محروم ہو جائے۔