سندھ سوشل سیکورٹی میں ایک بار پھر عدالت عظمی کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی

91

سپریم کورٹ کے واضح احکامات موجود ہ ہیں کہ کسی بھی ادارے میںOPS ، آئوٹ آف ٹرن پروموشن پر افسران کو تعینات نہیں کیا جائے گا ۔ ان احکامات کی روشنی میں ناصرف پورے پاکستان بلکہ صوبہ سندھ کے تمام محکموں میں بڑے پیمانے پر ایسے افسران کو ہٹایا گیا اور چیف سیکرٹری سندھ نے تمام محکموں کے سیکرٹریز سے بھی Affidavit بھی لیے اور سپریم کورٹ میں انھیں جمع بھی کروایا کہ ان کے محکموں میں سپریم کورٹ کے احکامات کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہورہی ہیں۔ لیکن افسوس ناک بات ہے کہ محکمہ محنت کے ایک ادارہ سندھ سوشل سیکورٹی مسلسل سپریم کے احکامات میں خلاف ورزی کررہا ہے اور اس ان کے واضح احکامات کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ ماضی میں جب مختلف محکموں کے چھوٹے گریڈ کے ملازمین کو سندھ سوشل سیکورٹی میںلا کر اہم پوسٹس پر گریڈ 18 اور 19 میں تعینات کردیا گیا تھا تو ادارے کے افسران نے اس عمل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور عدالت عالیہ کو یہ بتایا گیا تھا کہ ادارے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے
احکامات کی خلاف ورزی کرکے توہین عدالت کی جارہی ہے۔ جس پرکرمنل اوریجنل پٹیشن نمبر 37/2016 میں عدالت نے چیف سیکرٹری سندھ اور سیکرٹری لیبر اور کمشنر سیسی کو نوٹس جاری کیے اور تینوں صاحبان نے عدالت کو یہ ضمانت دی کہ ہم تمام ایسے افسران کو فوری طور پر ہٹا رہے ہیں اور آئندہ ایسی کوئی پوسٹنگ سیسی میں نہیں کی جائیں گی۔ لیکن ایک سال کے وقفہ سے پھر عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی کی گئی تو سیسی فاونڈیشن نے ایک بار پھر سپریم کورٹ آف پاکستان کو آگاہ کیا ایک مرتبہ پھر ڈائریکٹر ایڈمن زاہد بٹ ، سیکرٹری لیبر رشیدسولنگی اور کمشنر سیسی نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں affidavitجمع کرایا کہ اب آئندہ آفیسرز اور اسٹاف کی پوسٹنگ میں سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی نہیں کی جاے گی اور اگر کی گئی تو اس کی ذمہ دار ہم ہوں گے۔
لیکن اب ایک بار پھر دوسال کے وقفہ بعدیہ سلسلہ بھی پھر شروع ہو گیا ہے۔ 2 جولائی کو آرڈر نمبر SS/Admn/2019-08 کے ذریعہ میڈیکل ایڈمن کا چارج ڈاکٹر انیس منگی کو دیا گیا جو سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی اور توہین عدالت ہے۔ ڈائریکٹر اکائونٹ کا چارج ایک 16گریڈ کے افسر فہیم کو دیا گیا ہے۔ خود ڈائریکٹر ایڈمن زاہد بٹ نے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن کے ساتھ فیڈرل بی ایریا آفس کاایڈیشنل چارج گزشتہ ایک سال سے اپنے پاس رکھا ہوا جہاں پر ان کے ایڈیشنل چارج کی وجہ سے اب تک فیڈرل بی ایریا ڈائریکٹوریٹ کروڑوں روپے کے خسارہ میں جاچکا ہے۔ اسی طرح ولیکا ہسپتال کا چارج مورخہ 21 جون 2019کو آرڈر نمبرSS/MW/1815کے ذریعہ سینئر موسٹ ڈاکٹر اعظم خان سے لے کر ایک انتہائی جونیئر ڈاکٹر غلام مصطفی ابڑو کو دے کر محکمہ محنت سندھ میں عدالت عالیہ کے احکامات کی مذاق اڑیا گیا۔ اس کے علاوہ بھی کراچی سے لے کر سکھر بے شمار اقر باپروی کے احکامات جاری کے جارہے ہیں جس کی وجہ سے ادارے میں کرپشن اپنے عروج پر ہے۔ جس کی صرف ایک مثال یہ ہے کہ ڈائریکٹر فنانس کا چارج سیسی میں ایک ایسے فرد کو دیا گیا جو ناصرف نیب زدہ ہے احتساب عدالت اور سندھ ہائی کورٹ بھی ان کی صمانت منسوخ کرچکی ہیں۔
چیف سیکرٹری سندھ اور سیکرٹری لیبر اور سندھ سوشل سیکورٹی کے ان معاملات پر ایکشن لینے کی صرورت ہے اس سے قبل کے ان سب کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کا آغاز ہوجائے۔