پاکستان کیبلز‘ مزدور اپنے ہی رہنمائوں کے ہاتھوں لٹ گئے

117

پاکستان کیبل لمیٹڈ میں مزدور اپنے ہی محافظوں کے ہاتھوں لٹ گئے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کیبل لمیٹڈ سائٹ کے وہ مزدور جن کو پچھلے 20/15 سالوں سے کنٹریکٹ ورکر کی حیثیت سے ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے انہوں نے پاکستان کیبل لمیٹڈ کے خلاف معاوضہ جات کی عدالت میں 5 فیصد پرافٹ ورکرز پارٹیسپیشن ایکٹ کے تحت کیس داخل کیا اور معاوضہ جات کی عدالت نے ورکرز کے حق میں فیصلہ کردیا اور معاوضہ جات کی عدالت کے فیصلہ کو پاکستان کیبل لمیٹڈ نے لیبر کورٹ نمبر 2 میں چیلنج کیا اور کیس عدالت میں زیر سماعت ہی تھا کہ مزدوروں کے نام نہاد نمائندہ صابر سلطان نے جعلی پاور آف اٹارنی جس میں لکھا ہوا ہے کہ جملہ ملازمین، درخواست گزار کیس نمبر 4A/187/18C صابر سلطان وغیرہ بنام پاکستان کیبل ایک معاہدہ پر پہنچ گئے ہیں اور وہ نہیں چاہتے ہیں کہ کیس کو چلایا جائے۔ اسی طرح ایک اور انکریمنٹ جو محمد صابر نے اور اس کے کسی حصہ دار نے درخواست گزار سے کمال مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک کاغذ پر دستخط لیے اور ان کو یہ بتایا گیا کہ 5 فیصد کی رقم بذریعہ انکریمنٹ پاکستان کیبل دے رہی ہے اور جملہ درخواست گزاروں کو اس شہر سے سب معروف فیڈریشن کا دفتر بینک کے اوپر بنا ہوا ہے وہاں پر بلایا گیا اور درخواست گزاروں سے 2 چیک پر دستخط لیے ایک چیک 5 لاکھ کا تھا اور دوسرا 50 ہزار کا تھا اور یہ چیک وکیل راحت اللہ نے اپنے پاس رکھا اور 5 لاکھ کا چیک ہر ورکر، درخواست گزار کے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ تمہاری 5 فیصد کی رقم ہے۔ یاد رہے کہ جملہ درخواست گزار اَن پڑھ ہیں اردو بھی پڑھنی نہیں آتی ہے اور سالہا سال سے مزدوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے تھے اور اچھے کل کو اپنی آنکھوں میں بسایا ہوا تھا۔ اور ایک ایسے وکیل پر بھروسہ کررہے تھے جو نبی احمد مرحوم (مزدور رہنما) کے آفس میں بیٹھتا تھا۔ یقینا نبی احمد کی روح بھی تڑپی ہوگی اور جن جن لوگوں نے اس میں ہاتھ بٹایا ہے وہ بھی قہر خداوندی سے نہیں بچ سکیں گے اور ان بے چارے مزدوروں کی بد دعائیں زندگی بھر اُن کا پیچھا کریں گی۔ بعدازاں درخواست گزار نے ہر عدالتی فورم میں صابر سلطان اور اس کے دست راست کو بے نقاب کرنے کے لیے درخواستیں دائر کی ہیں۔ مذکورہ بالا افراد نے نہ صرف ناجائز رقم اینٹھی بلکہ 50 سے زائد مزدوروں کا روزگار بھی چھینا کیونکہ مذکورہ بالا کیسز کے درخواست گزار جب ڈیوٹی پر گئے تو اُن کو بتایا گیا کہ اُن کی ملازمت تو ختم ہوچکی ہے اور جو رقم اُن کو دی گئی تھی اُس میں اُن کے سروس کے بھی پیسے شامل تھے۔ اس بات کو سننے کے بعد کئی مزدور بے ہوش ہوئے اور پھر ان کو اسپتال لے جانا پڑا۔ اب عدالت میں دوبارہ داد رسی کے لیے اپنے کیس داخل کریں گے کیونکہ اُن کی نوکری ختم ہونے پر کاز آف گریوانس پیدا ہوگیا ہے۔ دوہرا ظلم تو درخواست گزاروں کے ساتھ ہوا ہے کہ ان کو پاکستان کیبل کا ملازم بذریعہ عدالتی حکم تسلیم کرلیا گیا تھا لیکن ان نام نہاد مزدور رہنمائوں نے اور مزدوروں کے لیے کام کرنے والے وکیل نے انتہائی کم ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 50 خاندانوں کا معاشی قتل کیا۔ درخواست گزار اب شدید پریشانی کے عالم میں ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
(اس سلسلے میں اگر کوئی فریق وضاحت پیش کرنا چاہتا ہے تو اسے بھی شائع کیا جائے گا)