ویلفیئر بورڈ کی زمینوں کی غیر قانونی فروخت

101

سندھ سرکار اس وقت کرپشن لوٹ مار و انتظامی بے قاعدگی میں جو شہرت و مقبولیت حاصل کرچکی ہے وہ ملک کی سیاہ تاریخ کا انمٹ حصہ ہے۔ لیکن اس میں کاش وہ اگر مزدور طبقہ کے فلاحی فنڈ پر رحم کرتے ہوئے درگزر فرماتے تو کیا بہتر تھا کیونکہ ان کی پارٹی پورے ملک میں ہر سطح پر مزدور اور غریب عوام کا مرتبہ زور و شور سے کرتی رہتی ہے۔ سندھ میں صنعت کاروں کی مالی معاونت سے سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ بے دریغ لوٹ مار کرپشن و مالی انتظامی بے قاعدگیوں میں مصروف عمل ہے۔ حالیہ بورڈ کے سہ فریقی نمائندہ اجلاس میں جو وزیر محنت سندھ کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ جس میں مزدور نمائندہ رکن بورڈ عزیز عباس نے توجہ دلوائی کہ ویلفیئر بورڈ کی ملکیت میں مزدوروں کے لیے مختص فلیٹ، پلاٹ، اسکول اور پارک کی زمینوں کی پرائیویٹ پارٹیوں کو خرید و فروخت کا سلسلہ تسلسل سے بلاخوف جاری و ساری ہے اور خصوصاً لاڑکانہ میں ایک سب انجینئر بورڈ کے اعلیٰ حکام کی سرپرستی میں یہ کاروبار کررہا ہے جس پر وزیر موصوف اور سہ رکنی بورڈ کے ممبران نے حیرت و تعجب کا اظہار کیا جس پر ان کو دستاویزی ثبوت فراہم کیے گئے۔ صرف یہ نہیں بلکہ عزیز عباس نے نشاندہی کی کہ
لانڈھی و کورنگی میں بھی بورڈ کی ملکیت خالی پلاٹوں کی خرید و فروخت کا کاروبار بھی مسلسل جاری و ساری ہے جس کی سرپرستی بورڈ کا طاقتور DON کررہا ہے۔ حالت مجبوری اور کھلے شواہد کی موجودگی میں خانہ پری کے لیے آفس آرڈر نمبر WWBS/AWN/2019/960 مورخہ 5 جولائی 2019ء کو ذوالفقار شیخ سب انجینئر لاڑکانہ کو ڈیوٹی سے معطل کردیا گیا ہے لیکن حالات و واقعات یہ بتارہے ہیں کہ نہ ہی انکوائری ہوگی اور نہ ہی اس کے خلاف مزید کوئی کارروائی ہوگی۔ کیونکہ وہ اکیلا تو نہیں بلکہ بورڈ میں کرپٹ افراد کی پوری ایک چین ہے جس نے کمال فنکاری سے ڈپٹی ڈائریکٹر (ویلفیئر) محمد زرخیریت ایک نامور فنکار کرپٹ کے حوالہ کردی۔