ملی یکجہتی کونسل کا سربراہی اجلاس‘ ملک گیر’’تحریک ریاست مدینہ‘‘چلانے کا فیصلہ

118
لاہور: منصورہ میں منعقدہ اجلاس کے بعد ملی یکجہتی کونسل کے صدر صاحبزادہ ابوالخیر ڈاکٹر محمد زبیر، سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ ودیگر رہنمائوں کے ساتھ پریس کانفرنس کررہے ہیں
لاہور: منصورہ میں منعقدہ اجلاس کے بعد ملی یکجہتی کونسل کے صدر صاحبزادہ ابوالخیر ڈاکٹر محمد زبیر، سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ ودیگر رہنمائوں کے ساتھ پریس کانفرنس کررہے ہیں

لاہور( نمائندہ جسارت) ملی یکجہتی کونسل نے ملک گیر’’تحریک ریاست مدینہ‘‘چلانے کا فیصلہ کیاہے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستا ن سینیٹر سراج الحق کی میزبانی میں منصورہ میں منعقدہ ملی یکجہتی کونسل کی سپریم کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے انتخابات میں قوم سے پاکستان کو مدینہ کی طرز پر ایک اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کا جو وعدہ کیا تھا، انہیں وہ وعدہ دلانے کے لیے ملک بھر کے بڑے شہروں میں ’’ریاست مدینہ‘‘کے نام سے کنونشن منعقد کیے جائیں گے۔ تحریک ریاست مدینہ کےلائحہ عمل اور پروگرامات کو حتمی شکل دینے کے لیے سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ کی سربراہی میں ایک ایکشن کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ صاحبزادہ ابوالخیر ڈاکٹر محمد زبیر کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں سینیٹر سراج الحق، حافظ عبدالغفار روپڑی، ضیا اللہ شاہ بخاری، علامہ عارف واحدی، قاضی ظفر الحق، خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ، پیر غلام رسول اویسی، مولانا عبدالمالک، نذیر احمد جنجوعہ، ثابت اکبر اور پیر سید لطیف الرحمن شاہ سمیت ملک کی 19 معروف دینی جماعتوں کے سربراہان اور نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ ابوالخیر ڈاکٹر محمد زبیر نے کہاکہ مذہبی قوتوں کو دیوار سے لگانے اور مذہبی اقدار کے خلاف عالمی سازشیں عروج پر پہنچ گئی ہیں اور عالمی استعماری طاقتوں نے پاکستان کو ہدف بنا رکھاہے بدقسمتی سے ہمارے حکمران ان سازشوں کو روکنے کی بجائے ان قوتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ ملک میں شعائر اسلام اور اسلامی اقدار کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔ سب سے زیادہ مذاق مدینہ کی اسلامی ریاست کو بنایا جارہاہے جس کا وعدہ کر کے خود وزیراعظم نے اس سے انحراف کیا۔ آج ملک میں سیاسی، معاشی، تعلیمی اور عدالتی نظام اسلام کے خلاف ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے غریب کی کمر توڑ دی ہے اور عوام کا جینا دوبھر ہوگیاہے۔ اجلاس میں عوام کے معاشی قتل عام کی مذمت کی گئی۔ صاحبزادہ ابوالخیر ڈاکٹر محمد زبیر نے سینیٹر سراج الحق کی طرف سے سینیٹ میں پیش کیے گئے سود کے خلاف اور سی ایس ایس امتحانات قومی زبان اردو میں لینے کے بل متفقہ طور پر پاس ہونے پر جماعت اسلامی کو مبارکباد دی اور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس امید کا ا ظہار کیا کہ سود کے خلاف بل اب جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی قومی اسمبلی میں پیش کریں گے جسے اسلام اور آئین کی بالادستی کے لیے ارکان اسمبلی پاس کرلیں گے۔ انہوں نے کشمیر میں بھارتی اور فلسطین میں اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی طرف سے اس پر خاموشی کو اسلام دشمنی کی بدترین مثال قرار دیا۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی امریکی مداخلت کو خطے کے امن کے لیے تباہ کن قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ امریکہ فوری طور پر مشرق وسطیٰ سے اپنی فوجیں نکالے۔ انہوں نے ختم نبوت کے خلاف ہونے والی سازشوں پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی سازشیں ہورہی ہیں حکومت کو ان کے تدارک کے لیے فوری اور موثر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہاکہ اسلام کے بنیادی اصولوں سے انحراف کیا جارہاہے اور ملک کے آئین و دستور کو پس پشت ڈال دیا گیاہے۔ وزیراعظم نے مدینہ کی ریاست کے وعدے سے بھی یوٹرن لے لیاہے۔ ملی یکجہتی کونسل حکومت پر دباؤ ڈالے گی کہ ملک و قوم کے مسائل آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور امریکہ کی غلامی سے حل نہیں ہوں گے ان مسائل کاحل ملک میں نظام مصطفی ? کے نفاذ میں ہے۔ انہوں نے کہاکہ تحریک ریاست مدینہ کے لیے دینی جذبہ رکھنے والے کارکنوں کو منظم کیا جائے گا۔ قبل ازیں اجلاس میں مصر کے صدر ڈاکٹر محمد مرسی شہید اور ڈاکٹر سید وسیم اختر مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔