گستاخ بولتا بھی ہے

150

 

 

کسی خوبصورت جنگل میں سر سبز درختوں میں گھری ایک پہاڑی کی چوٹی سے ٹھنڈے اور میٹھے پانی کا چشمہ نشیب کی جانب ایک بڑے سے پرنالے کی صورت میں بہتا ہوا مزید گہرائی کی جانب رواں دواں تھا۔ ٹھیک اس پہاڑی پر ایک شیر پانی پی رہا تھا۔ اچانک اس کی نظر پہاڑی کے دامن میں ایک خوبصورت ہرن پر پڑی جو اسی چشمے کا پانی پی رہا تھا۔ شیر کو یہ بات بری لگی کہ جس چشمے کا پانی وہ پی رہا ہے اسی چشمے کا پانی پینے کی جرات اس ہرن کو کیسے ہوئی۔ اس نے بلندی سے ہرن کو للکارا کہ تمہاری یہ ہمت کیسے ہوئی کہ تم میرے پینے کے پانی کو گندہ کرو۔ ہرن سمجھدار تھا۔ اس نے کہا کہ باد شاہ سلامت، میرے پانی پینے سے آپ کی جانب والے پانی کے گندہ ہوجانے کا کیا تعلق پیدا ہوتا ہے۔ آپ بلندی پر ہیں اور پانی بلندی سے بہہ کر نشیب کی جانب آرہا ہے۔ میں پہاڑی کے دامن میں بہہ کر آنے والے پانی سے اپنی پیاس بجھا رہا ہوں تو آپ کی جانب کا پانی کیسے گندہ ہو سکتا ہے۔ بات بیشک سچی اور مدلل تھی لیکن جنگل کے بادشاہ کے تن بدن میں آگ لگا گئی۔ اس نے نہایت غضبناکی سے کہا کہ گستاخ جواب بھی دیتا ہے۔ یہ کہہ کر ایک بھر پور چھلانگ لگائی اور ہرن کو دبوچ کر اس کا کام تمام کردیا۔
مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم صفدر عرف مریم نواز نے ایک ایسے جج کی گفتگو کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ ٹیپ ایک پْر ہجوم پریس کانفرنس میں چلادی جس نے ان کے والد میاں محمد نواز شریف کے خلاف فیصلہ سنایا تھا۔ اس ٹیپ میں یہ اقرار موجود تھا کہ اس نے ایسا شدید دباؤ کے تحت اپنے بیوی بچوں کی عزت و آبرو کے لٹ جانے کے ڈر سے کیا تھا۔ وہ ٹیپ کیا تھی، ایک قیامت تھی جس نے پاکستان کے سیاسی اور عدالتی حلقوں میں ہلچل مچا کر رکھ دی۔ گوکہ اس کا نشانہ جج یا پھر عدالتیں ہی تھیں لیکن جس انداز میں موجودہ حکومت عدلیہ کے دفاع کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی اس نے حکومت کے خلاف خود کئی سوالات اٹھا دیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس قسم کی ساری باتیں عدالتوں کی دیواروں کے پیچھے کرنا ہی اچھی لگتی ہیں لیکن پاکستان کی یہ بد قسمتی ہے کہ کسی بھی ملزم کے خلاف جو مقدمے میڈیا پر لڑے جاتے ہیں اور کسی کے مجرم ثابت ہونے سے برسوں پہلے جس طرح ملزمان کی کردار کشی ہو چکی ہوتی ہے اور میڈیا اس کو بہر لحاظ مجرم قرار دے چکا ہوتا ہے اس کے بعد ملزم، خواہ وہ کتنا ہی معصوم و بے قصور کیوں نہ ہو، تمنا کر رہا ہوتا ہے کہ کاش آسمان سر پر ٹوٹ پڑے یا زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں دفن ہو جائے۔ مریم نواز کو جج کی گفتگو کی آڈیو ویڈیو ٹیپ عدالت میں ہی پیش کرنی چاہیے تھی لیکن کیا اس قسم کی خلاف ورزی (اخلاقی) پاکستان میں پہلی بار کی گئی ہے۔ جن جن افراد کے اقراری بیانات کو بطور ثبوت ہمارے متعلقہ ادارے 1992 سے مسلسل سرکاری و غیر سرکاری ٹی وی چینلوں پر چلاتے رہے ہیں کیا یہ سارے آڈیو ویڈیو سیکڑوں کی تعداد میں نہیں چلائے جاتے رہے؟۔ کیا ان سب کو احاطہ عدالت سے باہر چلایا جانا درست تھا؟۔ اور اس پر مسخرہ پن یہ بھی ہوتا رہا کہ آج تک ان سارے اقراری مجرموں کو جنہوں نے لوٹ مار کی، بھتا خوری کی، بے شمار بینک لوٹے اور بیسیوں افراد کی ٹارگٹ کلنگ کی، ان میں سے معدودِ چند، شاید ہی کسی کو دار پر کھینچا گیا ہو یا قرار واقعی سزا دی گئی ہو۔ وہ افراد جن کے اقراری بیانات چلائے جاتے رہے ان کا تو یہ تک پتا نہیں چل سکا کہ وہ زمین پر ہیں یا آسمانوں کی سیر کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔
جب پاکستان کا ماضی اسی قسم کی غلاظتوں سے بھرا پڑا ہے تو اس میں غلاظت کی ایک اور چھینٹ کون سے طوفان کا باعث بن گئی کہ حکومت کی ساری مشینری ہر آدھے گھنٹے کے بعد ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر اس آڈیو ویڈیو ٹیپ کے خلاف منہ سے جھاگ اڑانے بیٹھ گئی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس آڈیو ویڈیو کا کوئی ذرہ برابر بھی تعلق حکمران جماعت سے بنتا بھی نہیں تھا بلکہ غور کیا جائے تو حکومت ہو یا اپوزیشن یا پھر پاکستان کی تمام سیاسی و سماجی پارٹیاں بشمول عوام، یہاں تک کہ ہمارا ’’مقتدر ادارہ‘‘، سب ہی اس بات پر متفق ہیں کہ ہمارا عدالتی نظام بے شمار نقائص کا شکار ہے اور اس نظام کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت فوجی عدالتیں ہیں جو موجودہ عدالتی نظام کے لیے ایک طمانچے سے کم نہیں۔ جو نظام اور جو عدالتیں مولوی تمیزالدین کے زمانے سے تنازعات کا شکار رہی ہوں، اگر اس کو کوئی مزید متنازع بنانا چاہ رہا ہو تو اس کی تحقیق تو ضرور کی جانی چاہیے لیکن اس پر چراغ پائی کا مظاہرہ عقل و فہم سے بہر صورت باہر ہی ہے۔
خرابی صرف ایک ادارے تک ہی محدود نہیں، غور کیا جائے تو نظام کا رواں رواں تجدید چاہتا ہے۔ عالم یہ ہے کہ جس نظام کو عوام جمہوریت خیال کیے بیٹھے ہیں وہ بد ترین آمریت کی ایک بھیانک شکل کے سوا اور کچھ نہیں۔ جہاں لوگ دفتروں، مزاروں، مسجدوں خانقاہوں، گلیوں، بازاروں اور گھروں سے اٹھالیے جائیں اور اٹھالیے جانے والوں کے ساتھ اٹھانے والوں تک کی خبر نہ ہو سکے، یہاں تک کہ جن لوگوں کو اٹھا لیا جائے اور ان کے لواحقین اس پر احتجاج کریں تو ان کے گلوں کو بھی گھونٹ دیا جائے، حکومت کی غلط پالیسیوں، عدالتوں کے امتیازی یا غیر منصفانہ فیصلوں، یا مقتدر ادارے کی کسی زیادتی کے خلاف آواز احتجاج بلند کرنے والوں کو یا تو ماردیا جائے یا ان کی آواز کو گھونٹ کر رکھ دیا جائے، پھر لوگ اسے جمہوریت خیال کرتے رہیں تو اس سے زیادہ خود فریبی اور کیا ہو سکتی ہے۔
مریم نواز کوئی معصوم فرشتہ نہیں لیکن کیا کسی جج پر تنقید کے فوراً بعد کسی بھی عدالت سے رد عمل کا آنا اس بات کی دلیل نہیں کہ ’’گستاخ بولتا بھی ہے‘‘۔ خبروں کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نیب کی درخواست پر سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کو 19 جولائی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ تفصیل کے مطابق قومی احتساب بیورو کی طرف سے منگل کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں نیب کے پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے ایون فیلڈ ریفرنس میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پیش کر کے عدالت کو گمراہ کیا تھا لہٰذا عدالت اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے مریم نواز کو اس جرم میں بھی سزا سنائے۔ یاد رہے کہ عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں جرم ثابت ہونے پر تین افراد کو سزا سنائی تھی جن میں سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر شامل ہیں۔ ان کے علاوہ میاں نواز شریف کے صاحب زادوں حسن نواز اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دینے کے لیے کارروائی کا آغاز کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔
آڈیو ویڈیو ٹیپ کے چلائے جانے کے فوراً بعد کسی بھی منصف کی جانب سے اس قسم کے رد عمل کے سامنے آنے کو کیا معنیٰ پہنائے جاسکتے ہیں علاوہ اس کے کہ ’’گستاخ بولتا بھی ہے‘‘۔ خبروں کے مطابق پاکستان کے تین نجی چینل بند کر دیے گئے ہیں۔ یہ بھی وہی چینلز ہیں جو گزشتہ کئی ہفتوں سے حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے چلے آ رہے تھے۔ کیا حکومت پر، عدالت کے کسی فیصلے پر یا کسی بھی مقتدر ادارے کی کسی پالیسی کو جو کسی بھی نقاد، تجزیہ کار یا مبصر کے نقطہ نظر کے مطابق غلط ہو، اسے ہدف تنقید بنانا جرم ہے اور وہ بھی آمریت میں نہیں، جمہوریت میں جس کا پہلا سبق ہی اظہار رائے کی مکمل آزادی ہو؟۔
یہ اور اسی قسم کی کارروائیوں سے پاکستان کا ماضی بھرا پڑا ہے۔ بات خواہ کتنی ہی مبنی بر حقیقت ہو، سچی ہو، اصلاحی پہلو رکھتی ہو، رہنمایان قوم کے لیے راہیں دکھانے والی ہو یا آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر کی گئی ہو، اگر وہ مزاج ’’شاہ‘‘ کے خلاف ہو تو اس کی پیشانی پر پڑنے والے بل حق گو کے لیے پیغام موت بھی بن سکتے ہیں اس لیے کہ اسے کسی کا جواب میں بولنا بھی گستاخی لگتا ہے اور وہ شیر کی طرح ایک معصوم ہرن پر یہ کہتا ہوا حملہ آور ہوجاتا ہے کہ اس کم بخت گستاخ کو بولنا بھی آتا ہے۔