قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

199

 

باپ نے کہا ’’ابراہیمؑ، کیا تو میرے معبْودوں سے پھر گیا ہے؟ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا بس تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے الگ ہو جا‘‘۔ ابراہیمؑ نے کہا ’’سلام ہے آپ کو میں اپنے رب سے دْعا کروں گا کہ آپ کو معاف کر دے، میرا رب مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔ میں آپ لوگوں کو بھی چھوڑتا ہوں اور اْن ہستیوں کو بھی جنہیں آپ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہیں میں تو اپنے رب ہی کو پکاروں گا، امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کے نامراد نہ رہوں گا‘‘۔ پس جب وہ اْن لوگوں سے اور اْن کے معبْودانِ غیر اللہ سے جْدا ہو گیا تو ہم نے اْس کو اسحاقؑ اور یعقوبؑ جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو نبی بنایا۔ اور ان کو اپنی رحمت سے نوازا اور ان کو سچی ناموری عطا کی۔ (سورۃ مریم:46تا 50)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معراج کی رات ایک شخص کو دیکھا جو عرش کے نور میں ڈوبا ہوا تھا، پوچھا یہ کون ہے، فرشتہ ہے؟ مجھ سے کہا گیا نہیں، میں نے کہا نبی ہے؟ کہا گیا نہیں، میں نے پوچھا پھر کون ہے؟ بتایا گیا یہ وہ ہے جس کی زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رہتی تھی اور دل مسجد میں اٹکا رہتا تھا اور اس نے کبھی اپنے والدین کو گالی نہیں دلائی۔
(الترغیب والترہیب)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس شخص نے کسی عذر کے بغیر تین جمعہ چھوڑ دیے وہ منافق ہے۔ (صحیح ابن خزیمہ)