اگلی حکومت ہماری ہوگی،بینظیر انکم پروگرام ختم نہیں کرنے دیں گے،بلاول

55
سکھر: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری تقریب سے خطاب کر رہے ہیں
سکھر: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری تقریب سے خطاب کر رہے ہیں

سکھر(نمائندہ جسارت،آئی این پی)اگلی حکومت ہماری ہوگی۔بے نظیر انکم پروگرام ختم نہیں کرنے دیں گے۔بلاول زرداری۔تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا ہے دنیا کہتی ہے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ختم نہیں کرنے دیں گے۔سکھر میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول زرداری نے کہا کہ غربت مٹاؤ پروگرام سندھ کے لیے انقلابی پروگرام ہے۔ پیپلز پارٹی کا غربت مٹاؤ پروگرام پورے سندھ میں پھیل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کہتی ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ختم نہیں کرنے دیں گے۔ عالمی بینک بھی کہتا ہے بینظیر انکم سپورٹ ختم نہیں ہونے دیں گے۔ خواتین کے دلوں سے بینظیر بھٹو کا نام کیسے ختم کرو گے۔غربت مٹاؤ پروگرام مزید پھیلے گا۔بلاول زرداری نے کہا کہ اگلی حکومت پیپلزپارٹی کی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہم قبائلی علاقوں میں اور اس ملک کے کونے کونے میں خواتین کو ان کے پیروں پر کھڑا کریں گے۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام بدل کر ’ احساس ‘ رکھا جارہا ہے۔ اس پروگرام کو کسی صورت ختم نہیں ہونے دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ مل کر کام کریں گے تو صفائی کے مسائل نہیں ہوں گے۔علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ حکومت سے کہوں گا کہ غیر جمہوری روایت کو بند کریں۔ عمران خان نیویارک میں ہوں یا اسلام آبادمیں۔ہم جمہوری کام جاری رکھیں گے ۔ وہ جمعرات کو سکھر پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ پریس کلبزکا جمہوریت کی جنگ میں فرنٹ لائن کا کردار ہے۔ جمہوریت پسندوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔بلاول زرداری نے کہا کہ حکومت سے کہوں گا کہ غیر جمہوری روایت کو بند کریں۔ عمران خان نیویارک میں ہوں یا اسلام آبادمیں ،ہم جمہوری کام جاری رکھیں گے۔اپوزیشن سے واضح کہا ہے کہ پارلیمان کو نقصان نہیں پہنچانے دیں گے۔مجھ پر دوشہیدوں کا بوجھ ہے۔ ان کے خون پرکبھی سودے بازی نہیں کروں گا۔امید کرتا ہوں کہ حاصل بزنجو اس عہدے پر اچھے طریقے سے کام کریں گے۔بلاول زرداری نے کہا کہ حکومت کی نالائقی کابوجھ ٹیکس اور مہنگائی کی صورت میں نکل رہا ہے۔ کسی اپوزیشن رکن نے این آر او کی بات نہیں کی نہ پیسے کی بات کی۔این آر او کی ضرورت خان کی ہے ۔اپوزیشن کو کہتے ہیں کوئی راستہ نکالو پیسا دے کر باہر زندگی گزارو۔ہم اصول پسند لوگ ہیں ۔خان صاحب اپنے لیے پلی بارگین مانگتے ہیں ۔صادق سنجرانی ہماری حمایت سے چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے تھے ،میں حاصل بزنجو کی بطور چیئرمین سینیٹ نامزدگی کی توثیق کرتاہوں ۔صادق سنجرانی کو اخلاقی طور پر استعفا دینا چاہیے کیونکہ وہ ہمارا اعتماد کھوچکے ہیں ۔عوام دشمن بجٹ واپس لے کر عوام دوست بجٹ دیاجائے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے حصے پر اسلام آباد میں بیٹھا کٹھ پتلی گروپ قابض ہے۔ پنجاب، خیبر پختونخوااور سندھ کو پیسے کم دیے جارہے ہیں۔ ہر چیز پر ٹیکس لگ رہے ہیں۔ مہنگائی کاسونامی آگیا ہے، غریب پس رہے ہیں ، نالائق،دھاندلی زدہ، سلیکٹڈ،کٹھ پتلی حکومت کوعوام کاکوئی احساس نہیں۔