اقتدار کے بھوکے ریاست اور فوج کے بعد سینیٹ کو ہدف بنارہے ہیں،فردوس عاشق

94
اسلام آباد: معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان میڈیا سے گفتگو کررہی ہیں
اسلام آباد: معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان میڈیا سے گفتگو کررہی ہیں

اسلام آباد (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اقتدار کے بھوکے ریاست، اداروں، افواج پاکستان کے بعد اب وفاق کی علامت سینیٹ آف پاکستان کو ہدف بنا رہے ہیں، موجودہ اپوزیشن ملک میں جمہوریت کو ڈھال بنا کر اداروں کو کمزور کر کے اپنے تابع کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ کچھ سیاسی پنڈت سینیٹ کو اپنی خواہش کے تحت چلانے پر بضد ہیں، قوم کسی سیاسی ایڈونچرازم کی متحمل نہیں ہو سکتی، حکومت صادق سنجرانی کے ساتھ کھڑی ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سابق حکومت میں اداروں کیساتھ کھلواڑ ہوا، پاکستان میں جمہوریت کو ڈھال بنا کر اداروں کو کمزور کیا گیا۔ سیاسی اداکاروں نے اداروں کو کمزور کر کے انہیں اپنے تابع کیا۔ سیاست کے بارہویں کھلاڑی باہر بیٹھ کر پارلیمنٹ کو ڈکٹیٹ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی لشکر کشی کا اگلا ہدف سینیٹ ہے لیکن سیاسی طور پر انہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ عام سیاستدان کی سوچ اگلے الیکشن تک محدود ہوتی ہے لیکن حقیقی لیڈر آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے سوچتا ہے۔ حقیقی لیڈروں کو ووٹ بینک کے بجائے قوم کے مستقبل کی فکر ہوتی ہے۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اداروں کو اپنے تابع رکھنے والوں کے لیے سینیٹ کا آزاد کردار ناگوار گزر رہا ہے۔ کچھ سیاسی پنڈت ضد کر بیٹھے ہیں کہ سینیٹ ان کی خواہش پر چلنا چاہیے۔ اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی ہے۔ عوام سوال کر رہے ہیں کہ صادق سنجرانی نے ان کی شان میں کون سی گستاخی کر دی ہے؟ کیا چیئرمین سینیٹ نے آئین کی خلاف ورزی کی؟ انہوں نے کہا کہ سیاسی ایڈونچرازم کی قوم متحمل نہیں ہو سکتی۔ حالات اس قسم کی پنجہ آزمائی کی اجازت نہیں دیتے۔ ہم ادارے کے تقدس کو بچانے کے لیے سینیٹ کو مستحکم کریں گے۔ اپوزیشن سیاسی طور پر کچھ حاصل نہیں کر پائے گی، اپوزیشن کی پنجہ آزمائی ہم بجٹ میں آزما چکے ہیں۔نادان دوستوں کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ سینیٹ پر لشکر کشی نہیں ہونے دیں گے، سینیٹ میں بہت سے ایسے ارکان ہیں جو آزاد الیکشن لڑ کر آئے ہیں، وہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا پسند کریں گے۔