صلح حدیبیہ کے چند اہم پہلو

94

 

مولانا زاہد الراشدی

حدیبیہ کے مذاکرات اور معاہدہ جناب نبی اکرمؐ کی سیاسی فراست، سفارت کاری اور ڈپلومیسی کا شاہکار ہے جس کا صحیح معنوں میں حظ اس کا ذوق رکھنے والے حضرات ہی اٹھا سکتے ہیں۔ جی چاہتا ہے کہ اس کے تین چار پہلوؤں کا قارئین کے سامنے بھی تذکرہ ہوجائے۔
جب رسول اکرمؐ اور ان کے ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ رفقاء کو حدیبیہ کے مقام پر روک دیا گیا اور یہ بات سامنے آگئی کہ قریش مکہ جناب رسول اللہؐ اور ان کے ساتھیوں کو عمرہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے تو آپؐ نے وہاں رک کر اس صورتحال کا جائزہ لیا اور اپنی آئندہ حکمت عملی طے فرمائی۔ قبیلہ بنوخزاعہ کے ساتھ نبی کریمؐ کے اچھے تعلقات تھے وہ مسلمانوں کے بارے میں دل میں نرم گوشہ رکھتے تھے، ان کے سردار بدیل بن ورقاء خزاعی اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ نبیؐ سے ملاقات کے لیے آئے تو آپؐ نے ان کے ذریعے قریش مکہ کو ایک پیغام بھجوایا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ مسلسل جنگوں نے قریش کو کمزور کر دیا ہے اور اب وہ لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، البتہ میں ان کے لیے یہ پیشکش کر رہا ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ ایک معینہ مدت کے لیے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کر لیں اور دیگر عرب قبائل اور عوام کے ساتھ میرے روابط میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔ اگر میں قریش کے علاوہ باقی قبائل اور لوگوں کو ساتھ ملانے اور غلبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا تو قریش کے لیے دونوں راستے کھلے ہوں گے کہ یا باقی لوگوں کے ساتھ وہ بھی دائرہ اسلام میں داخل ہو جائیں یا اگر چاہیں تو اپنی موجودہ پوزیشن پر قائم رہیں۔ لیکن اگر وہ اس پیشکش کو قبول نہیں کرتے تو میری ان کے ساتھ آخری دم تک جنگ جاری رہے گی اور اللہ تعالیٰ دین حق کے غلبے کے بارے میں اپنا فیصلہ نافذ کر کے رہیں گے۔
صلح حدیبیہ کے بعد نبی اکرمؐ کو پورے جزیرۃ العرب میں اپنی دعوت کا دائرہ وسیع کرنے کا جو موقع ملا اور جس میں عرب قبائل عمومی طور پر اسلام کی طرف مائل ہونا شروع ہوگئے، اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ صلح حدیبیہ کے فوائد میں ایک اہم فائدہ تھا جو مسلمانوں کو حاصل ہوا۔ میری طالب علمانہ رائے میں یہ دراصل جناب رسول اللہؐ کے مقاصد میں سے تھا کیونکہ قریش کو جنگ نہ کرنے کے معاہدے کی پیشکش آپؐ نے خود کی تھی اور آپؐ چاہتے تھے کہ قریش کے ساتھ حالت جنگ کچھ دیر کے لیے ختم ہو جائے تاکہ باقی دنیا تک اسلام کا پیغام پہنچانے کی جدوجہد کو کسی رکاوٹ کے بغیر آگے بڑھایا جا سکے۔ یہیں سے اس بات کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس صلح میں بظاہر کمزور شرائط کو سیدنا عمرؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ کے اضطراب اور بے چینی کے باوجود اس لیے قبول کیا گیا تھا کہ آپؐ کے سامنے اسلام کی دعوت پہنچانے کے لیے پر امن ماحول اور فضا قائم کرنا ضروری تھا جس کے لیے یہ صورتحال برداشت کی گئی۔
قریش کے ساتھ اس بات چیت کے لیے نبی کریمؐ کے پاس گفت و شنید کے لیے پانچ الگ الگ نمائندے بدیل بن ورقاء، عروہ بن مسعود ثقفی، رجل من کنانہ، مکرز بن حفص اور سہیل بن عمرو باری باری آئے تھے۔ بخاری شریف کی اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک کے ساتھ آپؐ کا طرز عمل مختلف تھا۔ مثلاً ایک نمائندے کا تذکرہ ’’رجل من کنانہ‘‘ کے طور پر کیا گیا ہے جن کا نام مذکور نہیں ہے مگر بتایا گیا ہے کہ یہ صاحب قریش کی طرف سے باقاعدہ نمائندہ بن کر اور ان سے اجازت لے کر مذاکرات کے لیے آئے تھے۔ آپؐ نے دیکھتے ہی پہچان لیا اور ساتھیوں سے کہا کہ یہ فلاں شخص ہے اور ان کے ہاں ہدی کے جانوروں کا بڑا احترام پایا جاتا ہے اس لیے اس کے آنے سے پہلے ہدی کے جانوروں کو صف میں کھڑا کردو۔ ان صاحب نے آ کر جب ہدی کا جانوروں کی قطاریں دیکھیں اور صحابہ کرامؓ کو تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا تو وہیں رک گئے اور کہا کہ یہ حضرات تو عمرے کے لیے آئے ہیں اور قربانی کے جانور بھی ساتھ لائے ہیں اس لیے میں انہیں بیت اللہ تک پہنچنے سے روکنے کے حق میں نہیں ہوں، یہ کہہ کر وہ واپس چلے گئے اور اپنے لوگوں کو جا کر بتایا کہ میں ان لوگوں کو عمرے کی ادائیگی سے روکنے کی کاروائی میں شریک نہیں ہوں۔ اس کے بعد مذاکرات کے لیے مکرز بن حفص نامی صاحب آئے تو آپؐ نے بتایا کہ یہ فاجر آدمی ہے، مطلب یہ کہ اس کے ساتھ گفتگو بڑی احتیاط سے کرنا ہوگی۔ لیکن وہ ابھی گفتگو کا آغاز نہیں کر پائے تھے کہ ادھر سے قریش کے آخری نمائندے سہیل بن عمرو آگئے جن کے بارے میں آپؐ نے فرمایا کہ اب معاملہ آسان ہو جائے گا، چنانچہ ایسا ہی ہوا اور ان کے ذریعے معاہدہ طے پا گیا۔ جناب رسول اللہؐ کے طرز عمل سے ایک بات تو یہ سمجھ آتی ہے کہ ہر شخص اور ہر قوم سے ایک ہی انداز و لہجے میں بات کرنا مناسب نہیں ہوتا بلکہ مختلف قوموں اور طبقات کے مزاج، نفسیات اور اخلاق و عادات کا لحاظ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ دشمن افراد کو ہمیشہ مغلوب کرنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ ان کے رجحانات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں اپنے حق میں رائے دینے پر آمادہ کرنا زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
اس معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ قریش میں سے کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ منورہ جائے گا تو اسے واپس قریش کے حوالہ کرنا ہوگا لیکن کوئی مسلمان اگر مکہ مکرمہ واپس آگیا تو قریش اسے واپس کرنے کے پابند نہیں ہوں گے۔ اس شرط پر صحابہ کرامؓ کی صفوں میں بے چینی اور خاص طور پر عمرؓ کا اضطراب سب کو دکھائی دے رہا تھا مگر آپؐ نے نہ معاہدہ میں صرف یہ شرط قبول کی بلکہ اس کی پوری پاسداری کی۔ چنانچہ بعد میں جب ابوبصیرؓ مسلمان ہو کر مدینہ منورہ آئے تو قریش نے ان کی واپسی کے لیے دو نمائندے مدینہ منورہ بھیجے۔ آپؐ نے ابوبصیرؓ کو معاہدے کے مطابق ان کے ساتھ واپس مکہ مکرمہ بھجوادیا مگر ابوبصیرؓ ان میں سے ایک کو راستے میں قتل کرکے مدینہ منورہ واپس جا پہنچے اور نبیؐ سے عرض کیا کہ آپؐ نے تو اپنی ذمے داری پوری کر دی تھی مگر میں واپس آگیا ہوں۔ اس پر آپؐ نے ان کے بارے میں یہ جملہ فرمایا کہ ’’ویل امہ مسعر حرب‘‘ کہ اس کی ماں کی ہلاکت ہو یہ لڑائی کی آگ بھڑکائے گا، یعنی قریش کے ساتھ جنگ کا وہ ماحول جو ہم نے بڑی مشکل سے ختم کرایا ہے وہ اسے واپس لے آئے گا۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ کیا اس کو کوئی سنبھالنے والا ہے؟ یہ سن کر ابوبصیرؓ چپکے سے واپس چلے گئے اور مکہ مکرمہ لوٹنے کی بجائے سمندر کے کنارے ڈیرہ لگا لیا جو اس طرح کے نئے مسلمانوں کے لیے ایک حفاظتی کیمپ بن گیا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب دشمن کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پا جائے تو وہ معاہدہ کیسا ہی کیوں نہ ہو اپنے کسی ساتھی کو اس میں رخنہ اندازی کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی ایسی کسی کاروائی کی ذمے داری قبول کی جاسکتی ہے۔
جب اس معاہدے کی رو سے جناب رسول اللہؐ نے مکہ مکرمہ سے مسلمان ہو کر آنے والوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تو انہوں نے واپس مکہ مکرمہ جانے کی بجائے ابوبصیرؓ کے کیمپ میں جمع ہونا شروع کر دیا اور ان کا اچھا خاصا گروپ بن گیا۔ وہ سیف البحر کے مقام پر آرام سے نہیں بیٹھے بلکہ قریش کے تجارتی قافلوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کر دی اور قتل و غارت کا بازار گرم کردیا۔ اس سے قریش تنگ آگئے اور انہوں نے آپؐ کو باقاعدہ پیغام بھجوا کر اس شرط سے دستبرداری اختیار کر لی۔ اس کے بعد آپؐ نے ابوبصیرؓ کے کیمپ کے لوگوں کو مدینہ منورہ بلا لیا۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ نبی کریمؐ نے معاہدے کی مکمل پاسداری کی، اس کی خلاف ورزی کرنے والوں میں سے کسی کی ذمے داری قبول نہیں کی اور نہ ہی انہیں مدینہ منورہ میں رہنے دیا۔ لیکن قریش کی طرف سے مذکورہ شرط سے دستبرداری کے بعد آپؐ نے نہ صرف ابوبصیرؓ کے کیمپ کے لوگوں کو کیمپ ختم کر کے مدینہ منورہ آجانے کی ہدایت کی بلکہ ان میں سے کسی کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی اور انہیں آزادی کے ساتھ جہاں چاہیں رہنے کی اجازت دے دی جسے آج کی اصطلاح میں ’’عام معافی کا اعلان‘‘ کہا جاتا ہے۔
صلح حدیبہ کے حوالے سے جناب نبی اکرمؐ کے اسوہ حسنہ کے یہ چند پہلو اس لیے عرض کیے ہیں کہ ہمارے آج کے حالات اور مسائل میں ان سے راہنمائی حاصل کرنے کی زیادہ ضرورت ہے اور موجودہ قومی صورتحال میں تمام فریقوں کو اس کا ضرور جائزہ لینا چاہیے۔