اُبی بن کعب انصاریؓ ۔۔۔سید المسلمین

111

 

طالب ہاشمی

سیدنا اُبی بن کعب انصاریؓ کا شمار تاریخ اسلام کی ان مہتمم بالشان شخصیتوں میں ہوتا ہے جن کو دربار رسالت میں نہایت ممتاز درجہ حاصل تھا اور جن کی جلالت قدر اور تبحر علمی پر مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کا کامل اتفاق ہے۔ اْبیؓ کا تعلق انصار کی نہایت معزز شاخ نجار (خزرج) کے خاندان بنی جدیلہ سے تھا۔ شجرہ نسب یہ ہے:
والدہ کا نام صہیلہ تھا جو خاندان عدی بن نجار سے تھیں۔
اْبیؓ دو کنیتوں سے مشہور تھے ایک کنیت ابوالمنذر تھی جو رحمت عالمؐ نے رکھی تھی۔ دوسری کنیت ابوالطفیل جو ان کے بیٹے طفیل کے نام کی نسبت سے عمر فاروقؓ نے رکھی تھی۔ سید الانصار، سیدالمسلمین اور سید القراء اْبیؓ کے القاب تھے۔
سیدنا اْبیؓ کے لڑکپن اور جوانی کے حالات کتب سیر میں نہیں ملتے۔ البتہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اوائل عمر میں ہی لکھنا پڑھنا سیکھ گئے تھے اور ان کا شمار انصار کے تعلیم یافتہ لوگوں میں ہوتا تھا۔ مولانا سعید انصاری مرحوم نے سیر انصار میں یہ رائے ظاہر کی ہے غالباً اْبیؓ اسلام سے پہلے تورات پڑھ چکے تھے اور اسی کا اثر تھا کہ اسلام کی آواز نے انہیں بہت جلد اپنی طرف متوجہ کرلیا۔
اْبیؓ کے سعادت اندوز اسلام ہونے کے بارے میں مشہو رروایت یہ ہے کہ انہوں نے بیعت عقبہ ثانیہ میں مکہ جاکر رحمت عالمؐ کے دست مبارک پر بیعت کی۔ لیکن تاریخ و سیر کی اکثر کتابوں میں اصحاب عقبہ ثانی کی جو فہرست دی گئی ہے۔ اس میں ابی بن کعبؓ کا نام نہیں ہے۔ اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ وہ بیعت عقبہ سے پہلے ہی مشرف بہ اسلام ہوچکے تھے۔ رہی یہ بات کہ وہ بیعت عقبہ میں شریک ہوئے یا نہیں اس میں اختلاف ہے۔ بہر صورت ہجرت نبوی سے پہلے ان کا شرف ایمان سے بہرور ہونا سب کے نزدیک مسلم ہے۔
ہجرت کے بعد سیدالانامؐ نے مدینہ منورہ میں نزول اجلال فرمایا تو انصار میں سے ابی بن کعبؓ کو سب سے پہلے وحی لکھنے کا شرف حاصل ہوا۔ اس لحاظ سے ان کو انصاری کاتبین وحی میں امتیازی درجہ حاصل ہے۔
ہجرت کے چند ماہ بعد آپؐ مہاجرین اور انصار کے مابین مواخات قائم کرائی تو اْبیؓ کو جلیل القدر صحابی (یکے از عشرہ مبشرہ) سیدنا سعید بن زیدؓ کا اسلامی بھائی بنایا۔
غزوات کا سلسلہ شروع ہوا تو اْبیؓ بدر سے لے کر طائف تک تمام غزوات میں رحمت عالمؐ کے ہمرکاب رہے۔
جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ اْبیؓ کو غزوہ اْحد میں ایک تیر ہفت اندام میں لگا جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔ سرور عالمؐ کو اطلاع ملی تو آپ نے ان کے علاج کے لیے ایک طبیب بھیجا جس نے رگ کو کاٹ دیا۔ نبیؐ نے اس رگ کو اپنے ہاتھ سے داغ دیا اور اْبیؓ کا زخم جلد ہی مندمل ہوگیا۔
اْبیؓ کو رحمت عالمؐ سے بے پناہ محبت تھی اور کلام الہٰی سے بھی گہرا شغف تھا۔ چنانچہ وہ اپنے وقت کا بیشتر حصہ بارگاہ نبویؐ میں گزارتے تھے۔ آپؐ ان کو قرآن سناتے اور حفظ کراتے تھے اور کتابت وحی کی خدمت بھی لیتے تھے۔ اس طرح ان کو بارگاہ رسالت میں خصوصی تقرب حاصل ہوگیا تھا۔ قرآن حکیم سے اْبیؓ کا غیرمعمولی شغف اس قدر مقبول ہوا کہ خود ذات باری تعالیٰ نے اْبیؓ کا نام لے کر رسول اللہؐ سے فرمایا کہ ان کو قرآن سنایا کریں۔ ارشاد ربانی کے مطابق نبی اکرمؐ نے اْبیؓ کی تعلیم پر خاص توجہ فرمائی جس کا نتیجہ یہ ہواکہ وہ قرآن حکیم کے حافظ اور قرآنی علوم و معارف کے بہت بڑے عالم بن گئے۔ ان کی قرأت سرور عالمؐ کو اس قدر پسند تھی کہ ایک مرتبہ آپؐ نے فرمایا کہ ’’لوگوں میں سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں‘‘۔
ایک دفعہ نبیؐ نے ابیؓ سے دریافت فرمایا کہ ’’قرآن میں کون سی آیت بے انتہا عظمت کی حامل ہے؟‘‘ اْبیؓ نے عرض کیا ’’آیت الکرسی‘‘۔
ان کا جواب سن کر نبیؐ بہت خوش ہوئے اور فرمایا: ’’اْبی! تمہیں یہ علم مسرور کرے‘‘۔