جوہری ایجنسی کا اجلاس روس اور ایران امریکا کے خلاف متحد

83
ویانا: عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے اجلاس میں ایرانی سفیر حکومتی موقف پیش کررہے ہیں
ویانا: عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے اجلاس میں ایرانی سفیر حکومتی موقف پیش کررہے ہیں

ویانا (انٹرنیشنل ڈیسک) روس اور ایران نے جوہری توانائی ایجنسی کے اجلاس میں امریکا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی درخواست پر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے ) کا آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں خصوصی اجلاس ہوا جس میں عالمی جوہری معاہدے سے متعلق ایران کے ساتھ جاری اختلافات اور تنازعات پر غور کیا گیا۔ ایرانی سفیر کاظم غریب آبادی نے اجلاس میں کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران کو معاشی دہشت گردی کا سامنا ہے، واشنگٹن حکومت غیر قانونی اور یک طرفہ پابندیوں کو خود مختار ریاستوں کے خلاف دباؤ کے لیے آلہ بنارہا ہے ، لیکن یہ سلسلہ اب ختم ہوجانا چاہیے۔ جوہری معاہدے سے متعلق ایرانی اقدامات امریکی غیر قانونی رویے کا نتیجہ ہیں۔ اجلاس میں روسی سفیر میخائل اولیانوف نے بھی واشنگٹن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا جوہری معاہدے کے معاملے پر عملاً تنہا ہوگیا ہے ، اس کی جانب سے جوہری ادارے کا اجلاس بلانا عجیب ہے ، کیونکہ ٹرمپ نے جوہری معاہدے کو بدترین قرار دیا تھا۔ اجلاس بلانے کی درخواست سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کی اہمیت سے آگاہ ہے۔ امریکی سفیر جوکی وال کوٹ کا اجلاس میں کہنا تھا کہ ایران جوہری بھتہ خوری میں مصروف ہے اور جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی دھمکی دے کر بین الاقوامی برادری سے پیسہ بٹورنے کی کوشش کررہا ہے۔ اُدھر برطانیہ، فرانس، جرمنی نے جوہری ڈیل بچانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا مشترکہ بیان دیا۔ واضح رہے کہ چند روز قبل ہی ایران نے 2015ء کے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے افزودہ یورینیم کی مقدار بڑھانے کا اعلان کیا ہے ۔