کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے امیرمولانا صوفی محمد انتقال کرگئے

106

لوئردیر(صباح نیوز)کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے امیرمولانا صوفی محمد انتقال کرگئے،بیٹے نے بھی موت کی تصدیق کردی ہے۔ صوفی محمد کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق سربراہ مولوی فضل اللہ کے سسر تھے۔وہ 1933 ء کو لوئر دیر کے علاقے میدان میں پیدا ہوئے، دینی تعلیم صوابی میں مدرسے سے حاصل کی۔ 80ء کی دہائی میں جماعت اسلامی کے سرگرم رکن رہے، بلدیاتی انتخابات میں بھی حصہ لیا، 90ء میں جماعت اسلامی سے علیحدہ ہوکر تحریک نفاذ شریعت محمدی کی بنیاد رکھی۔ 1994ء میں ان کی تحریک نے تشددکا راستہ اختیار کیا، صورت حال کو معمول پر لانے کے لیے اس وقت کی حکومت نے صوفی محمد سے معاہدہ کیا ، معاہدے پر عملدر آمد نہ ہونے پر وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر نکلے۔2001میں نائن الیون واقعے کے بعد افغان طالبان کی مدد کے لیے صوفی محمد اپنے ہزاروں کارکنوں کے ساتھ افغانستان چلے گئے تاہم کچھ ہی عرصے بعد وہ واپس آئے ۔ اسی دوران اس وقت کی حکومت نے تحریک نفاذ شریعت محمدی کو کالعدم قرار دے کر صوفی محمد کو قید کرلیا ۔2008ء میں ملاکنڈ ڈویژن میں تحریک طالبان پاکستان کی بڑھتی سرگرمیوں کے باعث پیپلز پارٹی کی حکومت نے صوفی محمد کو رہا کیا تاہم 26جولائی 2009کو انہیں دوبارہ گرفتار کرلیاگیا۔ 2018ء میں صوفی محمد کو دوبارہ رہا کردیا گیا۔