جج کو فارغ کرنے کا مطلب ہے کہ اعلی عدلیہ نے حقائق کو تسلیم کرلیا، مریم نواز

52

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے کہا کہ جج کو فارغ کرنے کا مطلب ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے حقائق کو تسلیم کرلیا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے پر مریم نواز نے سوشل میڈیا پر اپنے رد عمل میں اللہ کا شکرادا کرتے ہوئے کہاکہ معاملہ کسی جج کو معطل کئے جانے کا نہیں،اس فیصلے کو معطل کرنے کا ہے جو اس جج نے دیا

معاملہ کسی جج کو عہدے سے نکالنے کا نہیں،اس فیصلے کو عدالتی ریکارڈ سے نکالنے کا ہے ،جو اس جج نے دباؤمیں دیا۔ معاملہ کسی جج کو فارغ کرنے کا نہیں اس کے فیصلے کو فارغ کرنے کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جج کو فارغ کرنے کا واضح مطلب یہ ہے کہ معزز اعلی عدلیہ نے حقائق کو تسلیم کر لیا ہے اگر ایسا ہی ہے تو وہ فیصلہ کیسے برقرا رکھا جا رہا ہے جو اس جج نے دیا ؟،اگر فیصلہ دینے والے جج کو سزا سنا دی ہے تو اس بےگناہ نواز شریف کو کیوں رہائی نہیں دی جارہی جس کو اسی جج نے سزا دی؟۔

مریم نواز نے کہا کہ اگر ایک جج مس کنڈکٹ کا مرتکب پایا گیا ہے اور اسے اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے تو اس مس کنڈکٹ کا نشانہ بننے والے کو سزا کیسے دی جاسکتی ہے۔

نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ نواز شریف 3 بار وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہنے والے پاکستان کے پہلے اور واحد شخص ہیں اور وہ شخص آج بےگناہ ثابت ہو جانے کے باوجود جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید ہے، یہ کہاں کا انصاف ہے، کیا صرف جج کو فارغ کر دینا کافی ہے۔