شام میں امریکی فوج کی کمی برطانیہ اورفرانس پوری کریں گے

78

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانیہ اور فرانس نے شام میں داعش کے خلاف جنگ کے لیے مزید فوج تعینات کرنے پر رضامندی ظاہر کردی۔ برطانوی خبررساں ادارے دی گارڈین نے امریکی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ شام میں امریکی فوجیوں کے انخلا سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کے لیے فرانس اور برطانیہ واشنگٹن کا مطالبہ پورا کریں گے، جب کہ اٹلی ابھی تک شش و پنج کا شکار ہے۔ دونوں ملک شام میں داعش کے خلاف جنگ میں پہلے سے شامل ہیں، تاہم اب وہ اپنی فوجیوں کی تعداد میں 10سے 15 فیصد اضافہ کریں گے۔ دوسری جانب ممکنہ طور پر امریکا شام میں متعین اپنے فوجیوں کی تعداد کو 400سے ڈھائی ہزار تک محدود کر دے گا۔عالمی سطح پر برطانیہ اور فرانس کی جانب سے شام میں فوج میں اضافے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح قرار دیا جارہا ہے۔ صدر ٹرمپ 6ماہ کے عرصے میں شام سے فوج واپس بلانے کا عندیہ دے چکے ہیں اور اب ان کی کوشش ہے کہ وہ شام میں داعش کے خلاف کارروائیوں کا بوجھ دوسروں کے کندھوں پر ڈالا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوںنے جرمنی سے مطالبہ کیا کہ وہ شام میں اپنی فوج تعینات کرے، تاہم برلن نے دوٹوک انداز میں واشنگٹن کو انکار کردیا۔ برلن حکام کا کہنا تھا کہ نیٹو کا رکن ہونے کے ناتے جرمنی امریکا کے ساتھ تعاون کرے گا، لیکن شام میں فوج کو تعینات کرنا کبھی بھی منصوبے کا حصہ نہیں رہا ہے۔ امریکا کی خصوصی آپریشن کمانڈ کی رپورٹ کے مطابق 2017ء میں دنیا کے 80ممالک میں امریکی فوج تعینات تھی۔ 2018ء میں اس میں وسعت کرکے 90ممالک تک آپریشنز کا دائرہ پھیلا دیا گیا۔ تاہم اب ٹرمپ انتظامیہ فوجوں کو سمیٹنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔ اس سلسلے میں صدر ٹرمپ افغانستان اور شام سے انخلا کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب شمال مغربی شام میں روس اور بشار الاسد کی افواج کی جانب سے بم باری کا سلسلہ جاری ہے۔ بدھ کے روز ادلب کے مختلف علاقوں پر بم باری کے نتیجے میں عورتوں اور بچوں سمیت مزید 19 شہری شہید ہوگئے۔ جنگی طیاروں نے آبادیوں کو نشانہ بنایا۔